Akbar Teri Maa Maut Teri Seh Na Sake Gi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Syed Mudassir Mehdi
مقتل کی اجازت کے لئے آئے جو اکبر
سادات کے خیموں میں تھا اک حشر کا منظر
غم دل کا عیاں تھا شہ مظلوم کے رخ پر
مولا نے کہا لال کو سینے سے لگا کر
اکبر تری ماں موت تری سہہ نہ سکے گی
اس پیری میں ہم سے تری میت نہ اٹھے گی
دیکھا رخ اکبر کو کئی بار پدر نے
پھر شہ نے کہا چوم کے سینے کو پسر کے
اے لال یہی سوچ کے پھٹتا ہے کلیجا
مقتل میں سناں تیرے کلیجے میں لگے گی
سر چوم کے اکبر کا یہ زینب نے بکا کی
مرنے کو نہ جا اے مرے بھیا کی کمائی
ارماں ہے کہ اک بار تجھے دولہا بناؤں
مت جا کہ کفن تیرا نہ ماں دیکھ سکے گی
نانا کا عمامہ سر اکبر پہ سجا کر
ہم شکل پیمبر کو وہیں دولہا بنا کر
سرور سے لپٹ کر یہی کہتی رہیں زینب
بھیا مری اکبر کے بنا کیسے کٹے گی
لپٹی ہوئی دامن سے یہ کہتی تھی سکینہ
مقتل میں یوں مرنے کے لئے جاؤ نہ بھیا
زندہ ہے ترے آنے کی امید پہ اب تک
مر جائے گی صغری ترے بن کیسے جئے گی
اٹھتی تھیں کبھی گرتی تھیں صدمے سے زمیں پر
اکبر سے کہے جاتی تھیں لیلی یہ تڑپ کر
ٹوٹے گی مرے لال سناں تیرے جگر میں
تا عمر مگر ٹیس مرے دل سے اٹھے گی
کیا جانے گا زینب کی محبت کی کوئی حد
صدقے میں تیرے جس نے دیئے عون و محمد
جس نے تیرے غم میں نہ لیا بیٹوں کا پرسہ
سر پیٹ کے اکبر تیرا ماتم وہ کرے گی
اے جان پدر اک تری الفت میں جئے ہم
نانا کی جو یاد آئی تجھے دیکھا کئے ہم
اکبر سے کہا شاہ نے مت جا کہ ترے بعد
تصویر پیمبر بھی نہ پھر گھر میں دکھے گی
یہ بات ارم اور مدثر نہ بھلانا
سرور کے حرم میں غم اکبر نہ سنانا
ورنہ لرز اٹھیں گے در و بام حرم کے
اور تربت شبیر بھی خوں رونے لگے گی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.