Main Hoon Abbas Ali
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Wajeeh Hasan Zaidi
اپنی کثرت پہ ہو خوش آج زیادہ لیکن
کر لیا حملے کا تم سب نے ارادہ لیکن
شامیوں لاکھوں ہو تم میں ہوں اکیلا لیکن
تم ہو سیراب میں مقتل میں ہوں پیاسا لیکن
چہرہ حیدر کرار کا عکاس نہیں
تم کو نظروں پہ نہ روکا تو میں عباس نہیں
کرتا ہے چہروں کی ہر وقت زیارت قرآں
جلوہ طور مسلسل نظر آیا حیراں
حسن یوسف بھی یہاں رکھتا نہیں نام و نشاں
فلک حسن پہ سب حسن کے سورج ہیں جہاں
باخدا ملک وفا کے لیے اک حاکم ہوں
میں اکیلا ہی وہاں ماہ بنی ہاشم ہوں
چہرہ عزم کا عکاس مجھے کہتے ہیں
کنز اسلام کا الماس مجھے کہتے ہیں
دل شبیر کا احساس مجھے کہتے ہیں
شیر ہوں اس لیے عباس مجھے کہتے ہیں
خالق حق سے محمد کے ولی نے مجھ کو
کربلا کے لیے مانگا تھا علی نے مجھ کو
ہیں جدا سب سے مری تیغ نظر کے حملے
ملک الموت ہیں ہمراہ مری نظروں کے
الاماں کا یہ سخن لاکھ زبانوں پہ رہے
بچ نہیں پائے گا اب کوئی یہاں مرنے سے
عرضیاں ہوں گی نہ منظور گزارش ہوگی
آج میداں میں فقط موت کی بارش ہوگی
شامیوں موت کے لمحات کو گردان بھی لو
جی نہیں پاؤ گے اپنے لیے شمشان بھی لو
شیر حیدر ہوں لعینوں مجھے پہچان بھی لو
تم تو لاکھوں ہوں مگر میرا سخن جان بھی لو
بھاگ کے راہ نہ پاؤ گے وہ حالت ہوگی
آستیں میں نے جو الٹی تو قیامت ہوگی
دشت پر ہول میں بھرا تھا حسینی جرار
یک بہ یک گونجی جو حیدر کے اسد کی للکار
ایسا لگتا تھا قیامت کے ہیں سارے آثار
نہر سے کہہ کے یہی بھاگ رہے تھے اشرار
تھرتھراتی ہے زمیں حق کے ولی آتے ہیں
موت سے کون بچائے گا علی آتے ہیں
جیسے قبروں کے قریں ہوتی ہے اک خاموشی
شیر جب آیا تو افواج کی حالت تھی یہی
فوج اک دوجے سے میدان وغا میں بولی
جان پیاری ہے تو یہ بات ہی بہتر ہوگی
لب دریا بڑی ہیبت ہے چلو بھاگ چلیں
یہ تو اجداد کی سیرت ہے چلو بھاگ چلیں
واسطہ ان کا نہیں گر تو دعا کچھ بھی نہیں
سامنے روضہ عباس ہو اور مر جاؤں
وہ چلی تیغ نظر اور گرے جسموں سے سر
خون ہی خون نظر آتا ہے تا حد نظر
مر گئے دیکھ کے غازی کا غضب ہی اکثر
دشت خاموش کا واللہ عجب تھا منظر
دیکھ کر وار کی رفتار بڑا کانپ گئے
اتنا دوڑے ملک الموت بھی کہ ہانپ گئے
چھوڑ کر نام علمدار وفا کچھ بھی نہیں
بہر عرفان میں کچھ ایسے اتر کر جاؤں
بل یہ کھاتے ہو جو عظمت پہ ہماری تم لوگ
جلے جاتے ہو جو عظمت پہ ہماری تم لوگ
حرف اٹھاتے ہو جو عظمت پہ ہماری تم لوگ
تلملاتے ہو جو عظمت پہ ہماری تم لوگ
سیر ہو کر بھی میری تیغ کے پیاسے ہو تم
مجھ کو معلوم ہے ہندہ کے نواسے ہو تم
اے وجیہہ اپنی عقیدت کی جلا کچھ بھی نہیں
آرزو میر ہلال اس کے سوا کچھ بھی نہیں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.