Qurban Dil O Jaan Mere Hussain
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Mesum Abbas
جب تک جیئیں گے تجھ پہ مریں گے کرتے رہیں اہل عزا بس یہی اعلان
سو بار زندگی اگر ملے، سو بار فدا تجھ پہ یا حسین
محبتوں کی انتہا، ہے تجھ سے ابن سیدہ، جان فدا کرنے کو تیار رہیں گے
تیرے عزادار تو زہرا کی دعا ہیں
ہماری روح میں بسا، عجب ہے رشتہ وفا، مجلس و ماتم کے طلبگار رہیں گے
جان ہتھیلی پہ رکھے محو بکا ہیں
ہے تیرا عشق انتہا، نثار تجھ پہ دو جہاں، زہرا کے بچوں سے وفادار رہیں گے
مولا تیرے نام پہ ماں باپ فدا ہیں
کہیں زمین و آسماں، یہ طفل پیر اور جواں، تو نے کیا ایسا کام، تجھ پہ درود و سلام
فخر سے کہتے ہیں ہم، جب بھی سجائیں علم
جب تلک سانس چلے، یہ عزاداری رہے، تیری محبت میں گرفتار رہیں گے
سایہ فگن دست علمدار وفا ہے
غم حیات کا ہے تو ہی نسب العین، کرتے رہیں اہل عزا بس یہی اعلان
اب یہ قدم روک نہیں پائیں گے طوفان
بنت نبی آتی ہیں جب فرش عزا پر
ہم اس پہ فدا ہیں جو تجھ پہ فدا ہے
ہم نے زمانے کو یہی درس دیا ہے
جاتی ہیں وہ اشکوں کو رومال میں لے کر
ہم ہو گئے اس کے جو تیرا ہوا ہے
عشق ہو در آل نبی سے تو مزہ ہے
ماتمی حلقوں کو دعا دیتی ہیں رو کر
تفسیر کسا ہے خالق نے کہا ہے
حر کی جو منزل ہے عقیدت کا صلہ ہے
اتنا بڑا مرتبہ، اہل عزا کو ملا
شبیر کا دشمن، دشمن ہی میرا ہے
حر تھا بشر وہ بھی عام، آج علیہ السلام
آگئی بے ساختہ یہ بات زباں پر
یہ سید میری جاں دین کے روح رواں
بعد شہادت بھی یہی حر نے کہا ہے
کہتے رہیں ہم بھی عقیدت سے یہ فرمان
یہ سبھی ارض و سماں ہیں تیرے مدح سرا
پورا کیا ہم نے دل زہرا کا ارمان
کیسے بھلا حق کا بیاں روک سکے گی
تعزیہ، تابوت، علم اور عماری
قول نبی اعلی صفات، کیسے مکمل ہے یہ بات
کیسے محبت کی زباں روک سکے گی
زندہ جلوسوں میں ہیں تہذیب ہماری
تو ہی ہدایت کا چراغ، تو ہی سفینہ نجات
کیا تیرے نوحوں کی اذاں روک سکے گی
راہ میں ہر سمت سبیلیں بھی ہیں جاری
تو ہی رستہ تو ہی منزل ہے تو ہی راہنما
راہ میں دیوار ہیں، تیرے عزادار ہیں
جیسے بھی حالات ہوں، لاکھ سوالات ہوں
یہ کروڑوں تیرے زائر دے رہے ہیں یہ صدا
دنیا تیرے غم کو کہاں روک سکے گی
رسم عزا ہے یہ ہمیں جان سے پیاری
اربعین کے یہ مناظر برسر کرب و بلا
تیری عزا، تیری ولا مرکز ایمان بس
یہ رسومات شفاعت کا ہے سامان
تیرے پرچم کو اٹھائے ہیں سبھی محو بکا
تیرے سب اصحاب مودت کے مسافر
ایک کے بعد ایک گئے سر کو کٹانے
کیسے مصائب ہیں سنو میثم و مظہر
اپنا وطن چھوڑ کے آئے تیری خاطر
تو نے خریدی جو زمیں اس کو سجانے
اکبر و عباس ہوں یا قاسم و اصغر
دشت بیاباں میں سبھی ہو گئے حاضر
جب تو گیا لاشوں کے میداں سے اٹھانے
عون و محمد ہوں کہ مسلم کے دو دلبر
صاحب ایمان ہیں، دشت پہ قربان ہیں
لاشوں نے رو کر کہا، دیجئے مولا دعا
سب تھے غریب الوطن، خاک پہ تھے بے کفن
جون، زہیر اور حبیب ابن مظاہر
کرب و بلا آئے تھے ہم وعدہ نبھانے
کہتا تھا شبیر سے ہر لاشہ بے سر
سب کے لبوں پر ہے صدا برسر میدان
سنتے ہیں لاشوں کی صدا سید ذیشان
مولا تیرے بعد نہیں جینے کا ارمان
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.