Ya Rab Mujhay Nafees Sa Unwaan Chahiye
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Imran Abbas
یارب مجھے نفیس سا عنوان چاہیے
الفاظ میں تقدسِ قرآن چاہیے
نوکِ قلم میں وسعتِ امکان چاہیے
ادراک میں بھی خیمہ عمران چاہیے
موضوع پہ میرے حسن کا معیار داد دے
اکبر میں تب پڑھوں گا کردار داد دے
ہم نے خدا کو جھک کے بتایا نماز ہے
ہم اس کی نظر ہیں وہ ہماری نیاز ہے
ہم وہ، وہ ہم ہیں کیسے ہے یہ بھی راز ہے
جو سر ہمارے تلوں پہ ہے سرفراز ہے
دل جس کا ہو اذان سے حیدر نکال دے
کوشش کرے وہ پہلے کہ اکبر نکال دے
دل ہے سروں کی فصل کو کاٹوں مگر نہیں
اونچا ہمارے تلوں سے کوئی بھی سر نہیں
ہم صدقہ روک دیں تو یہ شمس و قمر نہیں
ہم میں تو کیا عقاب میں فوجوں کا ڈر نہیں
دل ہے نمونہ دیکھو تو تھوڑے سے مار دوں
تلوار توڑ کر تمہیں گھوڑے سے مار دوں
دستِ اسد میں تیغ کے دھرنے کی دیر تھی
دوبارہ بدن ہو گئے مرنے کی دیر تھی
سوچو اگر نقاب الٹ دوں تو کیا رہے
پھر دشتِ کربلا میں رہے تو خدا رہے
یا پھر ہمارے بابا کی خیمام گاہ رہے
یا پھر بتولِ پاک کے سر کی ردا رہے
کون و مکاں جو حدتِ محشر میں آئیں گے
ہم تینوں تب بتول کی چادر میں آئیں گے
پہنچی جو وسطِ رن میں وہ لیلیٰ کی سجدہ گاہ
ڈالی سپاہِ شام پہ عین اللہ نے نگاہ
وہ رعب تھا نظر میں کہ اللہ کی پناہ
جسموں پہ کپکپی تھی زبانوں پہ لاللہ
نظروں کا جال اتنا بڑا پھینکتا ہے یہ
ہر آنکھ کو لگا کہ مجھے دیکھتا ہے یہ
جس نے سرِ حسین کی قیمت لگائی ہے
قیمت میں کیا لگایا ہے وحدت لگائی ہے
یا کبریا کی ساری مشیت لگائی ہے
یا پھر جہانِ گن کی حکومت لگائی ہے
یہ سب ہمارے گھر کے گداگر کے پاس ہے
ورنہ تو ان سے قیمتی میرا لباس ہے
میدانِ جنگ میں بھی اترنے کی دیر تھی
شکرِ خدا ہے دشت میں آکر تو بچ گئے
اکبر یہ بولے مرضیِ محشر خرام چل
دل ہی نہیں کہ کھینچوں میں تیری لاجام چل
یوں چل کہ مرتجز تجھے بھیجے سلام چل
مجھ سے ہے عزرائیل کو تھوڑا سا کام چل
تعمیلِ حکمِ مولا بصدِ ناز کرنی ہے
چلنا ہے دوڑنا ہے یا پرواز کرنی ہے
اکبر یہ کہہ کے آگے بڑھا یاعلی مدد
تھا تیغ کا وجودِ قضا یاعلی مدد
نبیوں کا ورد تیز ہوا یاعلی مدد
حد ہے کہ شامیوں نے کہا یاعلی مدد
اس سانچہءِ نگاہ میں ڈھل جاتی کربلا
رخ سے پسینہ گرتا تو جل جاتی کربلا
اٹھی نگاہِ اکبرِ جرار سوئے فوج
پھر عزرائیل آنے لگا روبروئے فوج
جیسے کہ موت سونگھنے نکلی ہو بوئے فوج
لگ سا گیا تھا موت کہ منہ کو لہوئے فوج
ہر اک عدو کا جسم تھا خون میں اٹا ہوا
ہر سینہ یوں تھا جیسے گریبان پھٹا ہوا
اکبر کہ اسے امر ہی کرنے کی دیر تھی
جبریل دیکھتا تھا میرے پر تو بچ گئے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.