Zindaan Khul Gaya Hai Sakina Watan Chalo
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Rajab Ali Khan
زندان کُھل گیا ہے سکینہ وطن چلو
سجاد کہہ کے گر پڑے چھوٹی سی قبر پر
مظلوم ایسے گر پڑے تُربت پہ بہن کی
جیسے حسین تھے گرے اکبر کی لاش پر
دیکھو نہیں رہی میرے ہاتھوں میں اب رسن
جانے لگا ہے قافلہ اب لوٹ کر وطن
لیکن تُو بہن شام میں قیدی ہی رہ گئی
کھا کر طمانچے سو گئی زنداں کی خاک پر
کرتا ہوں یاد رو کے میں منظر وہ درد کا
کانوں کے زخم پر جو طمانچہ تمہیں لگا
بابا کو تُو سنا پہ صدا دیتی رہ گئی
بابا سنا پہ روتے تھے تب تجھ کو دیکھ کر
اماں کی طرح تجھ کو نہ مل پائی تھی ردا
بابا کی طرح تجھ کو کفن بھی نہ مل سکا
پتھر بھی کھائے شام میں تُو نے میری طرح
ناقے سے گر کے ہو گئی تیری بھی خم کمر
میں لے کے تجھ کو شام سے واپس نہ جا سکا
بابا کو کیا بتاؤں میں اب جا کے کربلا
کُرتے میں دفن کر کے بنائی تیری لحد
عابد کو خون رلائے گا یہ درد عمر بھر
کربل میں چھن گئی تھی تیرے سر سے جو ردا
واپس میں لا چکا ہوں اُسے دیکھ تو ذرا
سر پر میں تیرے رکھتا ردا اپنے ہاتھ سے
افسوس ہائے شام میں تُو نہ رہی مگر
اماں کے بین سُن کے نکلتی ہے جان میری
کہتی ہے عمر بھر نہ وہ سائے میں جائے گی
کیسے اٹھاؤں اُجڑی ہوئی ماں کو تُو بتا
تیری لحد سے ماں کی بھی ہٹتی نہیں نظر
وہ رخصتِ حسینؑ پہ زینبؑ کا امتحان
ایسا ہی آج پھر سے ہے زندان کا سماں
سجادؑ ہو رہے ہیں جدا ایسے بہن سے
اٹھتے ہیں رو کے قبر سے گرتے ہیں قبر پر
لکھوں سحاب کس طرح محشر کا مرحلہ
تھا غم کی انتہا پہ بھی عابدؑ کا حوصلہ
زندہ بہن کی قبر سے اٹھ کر چلے گئے
احوالِ غم سنانے کو بابا کی قبر پر
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.