Qaid Khane Mein Talatum Hai Ke Hind Aati Hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Ustad Sibte Jafar
قید خانے میں تلاطم ہے کہ ہند آتی ہے
دخترِ فاطمہ غیرت سے موئی جاتی ہے
روح قالب میں وہ زندان میں گھبراتی ہے
بے حواسی سے ہر اِک بار یہ چلاتی ہے
آسماں دور زمیں سخت کدھر جاؤں میں
بی بیو مِل کے دعا مانگو کہ مر جاؤں میں
درِ زنداں پہ ہوا اتنے میں انبوہِ کمال
بولے درباں کہ بڑھے دولت و عمر و اقبال
قیدیو اٹھو دعا دے کے کرو استقبال
زنِ حاکم کا ہے زنداں میں نزولِ اجلال
تم کھلے کر تھیں حضور اب تمہیں چادر دیں گی
رحم دل ہیں ابھی زنداں سے رہ رہا کر دیں گی
لونڈیاں تھیں زن حاکم کی جلو میں جو رواں
دیکھتی کیا ہیں کہ اک شیر ہے آہن میں نہاں
لاغر و خسته تن و فاقہ کش و تشنہ دہاں
منہ پہ سیلی کے نشاں پشت پہ درّوں کے نشاں
ساقِ پا فاقوں سے زنجیر میں تھراتی ہے
اُستَخوانوں کے لرزنے سے صدا آتی ہے
گرد عابد کے پھری پھر وہ بحالِ تَغِیر
رکھ دیا پاؤں پہ سر اپنا ہٹا کر زنجیر
ہولے وہ کون ہے چِلّائی کنیزِ شبّیر
السلام اے رسن و طوق و سلاسل کے اسیر
ہے وصیت کا حل مرنے پر تیار ہے تو
کچھ کفن کے لئے رکھتا ہے کہ نادار ہے تو
غم نہ کھا گور و کفن میں مجھے دوں گی واللہ
نگے سر تیرے جنازے کے چلوں گی ہمراہ
مرنے والے تیرا کیا نام ہے کب سے ہے تباہ
بولے مولا ابھی پینتیس برس جینا ہے آہ
نام بے کس بھی ہے ، قیدی بھی ہے ، نادار بھی ہے
حال یہ ہے کہ اسیری بھی ہے ، آزار بھی ہے
ہنڈ نے پوچھا ، مرض کیا ہے ، کہا بے پدری
رو کے بولی کہ دوا کیا ہے ، کہا نوحہ گری
گھر جو دریافت کیا ، کہنے لگے در بدری
بولی لیتا ہے خبر کون ، کہا ہے خبری
آہ کرنے کا سب پوچھا تو شرمانے لگے
تازیانوں کے نشاں پشت پہ دِکھلانے لگے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.