NANA TERA PERDAIS MEN
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Zainab (s.a) recited by Ali Tafseer Zaidi
نانا ترا پردیس میں میں گھر لٹا کر آئی ہوں
بازار میں دربار میں خطبے سنا کر آئی ہوں
کوئی نہ تھا جو لاشہ شبیر کو دیتا کفن
پردیس میں روتی رہی سر کو جھکائے بے وطن
مقتل میں تیرے لعل کی تربت بناکر آئی ہوں
پھولوں کے بدلے آنسوؤں سے لعل کا سہرا بنا
شبیر نے مقتل سے پھر نو شاہ کا لاشہ چنا
یوں مجتبٰی کے لعل کو دولہا بنا کر آئی ہوں
مجبوریوں نے لاشوں پر رونے نہ مقتل میں دیا
میں نے بندھے ہاتھوں سے یوں شبیر کا ماتم کیا
فرش عزا شبیر کا گھر گھر بچھاکر آئی ہوں
پردیس میں اسطرح سے ہم پر ستم ڈھایا گیا
پانی کی اک اک بوند کو مقتل میں ترسایا گیا
اشکوں سے اپنی تشنگی نانا بجھا کر آئی ہوں
پردیس میں ہر موڑ پر چھینی گئی چادر میری
شہزادی تھی جس شہر کی اس شہر میں در در پھری
بالوں میں خاک کربلا اپنے سجاکر آئی ہوں
دشت مصیبت سے گیا اسطرح سے میرا آخی
پامالیوں کی زد پہ تھی لاش حسین ابن علی
لاشے پہ اپنے بھائی کے آنسو بہا کر آئی ہوں
جو سینہ شبیر پر سوتی تھی معصومہ اسے
جو اپنے بابا کے لئے روتی تھی مظلومہ اسے
میں شام کے زندان میں اسکو سلاکر آئی ہوں
کہتی تھیں زینب اے ظفر قبر رسول پاک پر
شہر مدینہ چھوڑ کر زخمی ہوئے قلب و جگر
نانا تیرے شبیر کا چہلم منا کر آئی ہوں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.