Jinnat Say jang
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Imam Ali (a.s.) recited by Meesam Abbas
سنے والو سماعت کا کیا فائدہ
پلٹے جنگ سکاسک سے جب مصطفیٰ
ایسی وحشت برستی تھی چاروں طرف
اک صحابی نے آقا کو دی یہ خبر
جنگ بیر العلم کا سنو واقعہ
ایک میداں میں آکر رکا قافلہ
کوئی مخلوق تھی اور نا آب و غذا
اک کنواں تو یہاں آ رہا ہے نظر
بولے آقا کے لے آؤ پانی ذرا
اس کنوئیں پر تو قبضہ ہے جنات کا
آٹھ اصحاب پانی جو لینے گئے
سن کے اصحاب کی بات شاہ امم
تب یہ حارث نے گھبرا کے ان سے کہا
آگ و مٹی میں کیسا تقابل بھلا
سب کے سب کر دیئے قتل جنات نے
بولے حیدر سے جا لے کے تیغ دو دم
دونوں عالم میں ہے تیرا جاہ و حشم
نکلے خیمے سے جیسے ہی شیر خدا
حیدر حیدر حیدر حیدر
حیدر جنات سے جنگ ہے یہ بیرالعلم ہے
چھین جنات سے جا کے بیرالعلم
دشت وحشت میں اک شور اٹھنے لگا
خیمے سے ابوطالب کا پسر
قدموں کی دھمک محسوس ہوئی
عفریت سے پھر حیدر نے کہا
تیغوں کی بات چلی ہے
میداں کی طرف کرتا ہے سفر
عفریت پکارا کون آیا
پہچان مجھے کرار ہوں میں
غیض میں شیر جلی ہے
کوئی بھی نہیں ہے خوف و خطر
یہ کس میں ہوئی جرات اتنی
پایا ہے نبی سے میں نے علم
جنگ جنوں سے چھڑی ہے
ہو سامنے چاہے جن یا بشر
عفریت پکارا کون آیا
اللہ کی اک تلوار ہوں میں
سامنے فوج کھڑی ہے
بدلے تھے حیدر کے تیور
کیا تم کو سمجھ میں آتا نہیں
ہمت ہے اگر تو سامنے آ
حیدر حیدر حیدر حیدر
بڑھتا ہو جیسے شیر ببر
جو آیا پلٹ کے جاتا نہیں
لڑنے کے لیے تیار ہوں میں
دن رات کے اندر ڈھلتا ہے
کیا تو آسان سمجھتا ہے
دوزخ کا پیٹ بھی بھر دوں گا
طوفان عجب سا اٹھتا ہے
ہم کو انسان سمجھتا ہے
ہے فی النار تجھے میں کر دوں گا
کرار ادھر جنات ادھر
شاہ جنات کے مرتے ہی
لڑائی ہوا میں
تیغ علی اوسان خطا تھے دیووں کے
پھر شعلہ بیاں گفتار چلی
کفار میں یوں جذبات اٹھے
کٹ کٹ کے گرے سر اور بدن
جنات سبھی گھبرا بیٹھے
نا دیکھنے والی خلقت سے
تعداد ہزاروں تھی ان کی
طاقت پے جنہیں تھا ناز بہت
تلوار کی ہیبت ایسی تھی
کچھ دیر یوں ہی تکرار چلی
جو دیو اور جنات اٹھے
تقسیم ہوئے ٹکڑوں میں وہ تن
اجسام کئی تھرا بیٹھے
باتوں سے بات نہ بن پائی
لشکر کے سپاہی بھاگ گئے
جو زندہ بچے تلوار سے
وہ جنات سبھی کلمہ پڑھ کر
تو دھوم سے پھر تلوار چلی
جب خوف کے یہ حالات اٹھے
پڑھنے لگے کلمہ خشک دہن
قدموں میں علی کے آ بیٹھے
تلوار چلائی مولا نے
جنات سے ڈر کر بھاگ نہیں
ہر وار علی کا بھاری تھا
مولا نے کہا مت گھبراؤ
عفریت کے ٹکڑے کر ڈالے
سلمان و ابوذر بھاگ نہیں
جبریل پہ لرزہ طاری تھا
سلمان اب پانی لے جاؤ
جنات مرے تو آگ بجھی
اٹھی نہ کوئی پھر چنگاری
جب آگ سے مٹی جیت گئی
نوری سے ہار گئے ناری
اک جشن ہوا اس دھرتی پر
اور نعرے لگے حیدر حیدر
بس ختم روایت ہوتی ہے
جب میثم و مظہر جنگ تھمی
رافیل اور زعفر جن نے بھی
مولا کے ہاتھ پہ بیعت کی
اصحاب محمد کو جا کر دیتے
مبارکباد سبھی
وہ بیرالعلم جب فتح ہوا
آتی تھی جنوں کی ایک صدا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.