Maqtal Mein Na Ati Abbas
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Raza Abbas Zaidi
جب چلی لٹ کے اسیری کے سفر پر زینب
جھڑکیاں کھاتی رسن بستہ کھلے سر زینب
لب دریا پے جو پہنچی تو قیامت آئی
گر پڑی لاشے پے غازی کے یہ کہہ کر زینب
مجھ کو غربت یہ اگر دن نہ دکھاتی عباس
یہ بہن خیمے سے مقتل میں نہ آتی عباس
حکم سجاد مقدم تھا تو باہر آئی
ورنہ ممکن نہ تھا پردے سے نکلنا بھائی
چاہے جلتے ہوئے خیمے میں قضا آ جاتی
سامنے شام کے لوگوں کے نہ آتی عباس
لب دریا تیرے بازو جو قلم نہ ہوتے
یوں ردا چھنتی نہ غربت میں بہن کے سر سے
کاش ہوتے جو تیرے ہاتھ بہن کے سر پر
اپنا سر خاک سے میں یوں نہ چھپاتی عباس
میرا غم اور بڑھانے کے لیے لائے ہیں
تیرے لاشے پے رلانے کے لیے لائے ہیں
شام والے جو نہ یوں لاتے رسن بستہ مجھے
حال میں اپنی ردا کا نہ سناتی عباس
زین سے ہو کے تو بے دست گرا تھا جیسے
چلتے ناقے سے میں مقتل میں گری ہوں ایسے
پس گردن میرے بازو جو بندھے نہ ہوتے
یوں تیرے لاشے پے خود کو نہ گراتی عباس
ایک رسی میں سبھی قیدی بندھے ہیں ایسے
ماؤں کے ہاتھوں کے نیچے ہیں گلے بچوں کے
چھوٹی زہرا کا بھی رسی میں گلا ہے ورنہ
تیرے لاشے پہ سکینہ کو نہ لاتی عباس
مجھ کو گھر میں بھی نہ دیکھا تھا کھلے سر تو نے
میرے سائے کو بھی رکھا تھا چھپا کر تو نے
آج غیروں سے ردا مانگ کے روتی ہے بہن
تو جو ہوتا تو یہ صدمے نہ اٹھاتی عباس
راہ سے بھیڑ کو لوگوں کی ہٹانے والا
آج کوئی نہیں محمل میں بٹھانے والا
میرا سجاد بھی پابند رسن ہے ورنہ
ٹھوکریں کھاتی ہوئی شام نہ جاتی عباس
تھا سحاب اور رضا کیسا وہ غم کا منظر
اٹھی عباس کے لاشے سے بہن یہ کہہ کر
صبر کرتی ہوں مشیت پہ خدا کی ورنہ
تیرے مقتل سے میں زندہ تو نہ جاتی عباس
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.