ہو گئے آزاد قیدی کمسنہ ملتی نہیں
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Arbaeen recited by Nayyar Abbas
ہو گئے آزاد قیدی کمسنہ ملتی نہیں
مر گئی شاید سکینہ شام کے زندان میں
کیوں درِ زندان سے عابد کی نظر ہٹتی نہیں
1.ایک محمل واپسی پر نامکمل رہ گیا
جسم کا سارا لہو آنکھوں سے جس کی بہہ گیا
اُس کو عابد ڈھونڈتا ہے وہ مگر ملتی نہیں
2.قید جیسی ہی رہائی مل گئی سجاد کو
دیکھتا حسرت سے ہے زنداں کی دیوار کو
بہن کو محسوس کرتا ہے مگر دکھتی نہیں
3.قید کے اندر لحد ہے اور لحد میں بے وطن
خاکِ کربل جس کی چادر اور کرتہ تھا کفن
ساتھ اس کو آج زینب لے کے جا سکتی نہیں
4.قبر پر اصغر سے ملنے کو بھی جا سکتی ہے ماں
قید کا در کھل گیا ہے کٹ چکی ہے رسیاں
ماں مگر زندان سے باہر کیوں نکل پاتی نہیں
5.باپ کا سر جس سناں پر شام تک رکھا گیا
اُس سناں کے پاس جا کر روتی تھی یہ کمسنہ
آج وہ سر تو ملا ہے پاس یہ بچی نہیں
6.مل گئی سجاد کو واپس ردا اور بالیاں
ان کو سینے سے لگا کر مر نہ جائے ناتواں
کون عابد کو سنبھالے ساتھ غازی بھی نہیں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.