Yeh Karbala Ki Sawariyan
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup recited by Syed Wajih Hasan Zaidi
عقاب
اے مومنو عجیب سا دیکھا ہے ایک خواب
محوِ سخن ہیں اشہل و میمون اور عقاب
قدسی فلک سے آئے ہیں سننے کو یہ خطاب
ہے اس مفاخرے کا ہر اک لفظ لاجواب
تینوں کے لب پہ یہ سخنِ لاکلام ہیں
ہم ناصرِ حسینؑ علیہ السلام ہیں
میمون
کہتے ہیں ہم پہ خاص کرم ہے حُسینؑ کا
سایہ فگن سروں پہ علم ہے حُسینؑ کا
دل پہ نام رقم ہے حُسینؑ کا
اپنا تو کعبہ نقشِ قدم ہے حُسینؑ کا
ہم معتبر ہیں ابنِ علیؑ کی نگاہ میں
شامل ہمارا خون بھی ہے سجدہ گاہ میں
اشہل
خاکِ رہِ حُسینؑ سے ڈھالے گئے ہیں ہم
نورِ نگاہِ شہؑ سے اُجالے گئے ہیں ہم
سنبھلے ہوئے تھے اور سنبھالے گئے ہیں ہم
کرب و بلا کے واسطے پالے گئے ہیں ہم
نسبت جو ہو گئی ہے شہِ مشرقین سے
زندہ ہمارا نام رہے گا حُسینؑ سے
عقاب
یوں لب اُٹھا ہوا علیؑ اکبرؑ کا پھر عقاب
ہم سب ہیں خادمانِ جنابِ ابوتراب
جبریل سا ملک بھی رہا میرا رکاب
اکبرؑ کی نوجوانی نے بخشا مجھے شباب
مَیں ہوں عقاب رہتا ہوں محوِ اُڑان مَیں
اکبرؑ کے ساتھ ساتھ ہوا ہوں جوان مَیں
میمون
میمون کہہ رہا تھا کہ دیکھو مرا نکھار
جس کی ہوں مَیں سواری سواروں میں شہہ سوار
میرے سوار نے کیا ہی مجھ کو باوقار
دیکھو کہ خوشبوؤں نے کیا ہے مرا حصار
قاسمؑ کو اپنی پشت پہ جب مَیں اُٹھاؤں گا
کل مَیں بھی ساتھ اپنے ماتھے پہ سہرا سجاؤں گا
اشہل
اشہل یہ بولا مَیں ہوں وفادار کے لیے
دلدل صفت ہوں ثانیء کراڑ کے لیے
یہ بات ہے مرے بہت مرے کردار کے لیے
پالا مجھے علیؑ نے علمدار کے لیے
سورج کی روشنی بھی مرے آگے ماند ہے
میرا سوار تو بنی ہاشمؑ کا چاند ہے
ذوالجناح
جاری مفاخرہ تھا کہ آ پہنچا ذوالجناح
ڈالی وجیہہؔ سب پہ بڑے ناز سے نگاہ
پھر بولا ذوالجناح کہ تم ہو مری سپاہ
رکھنا خیال کل بڑی مشکل ہے سب کی راہ
کل کرنا حق ادا یوں جنابِ بتولؑ کا
ہو جائے تم سے راضی نواسہ رسولؐ کا
میمون
مرثیع نام ہے شبیرؑ کا راہوار ہوں مَیں
نورِ اوّل کی قسم انوار ہوں مَیں
خود وفادار یہ کہتے ہیں، وفادار ہوں مَیں
میرے ہم جنس جو ہیں اُن کا علمدار ہوں مَیں
جب سے اللہ نے اس در کی غلامی دی ہے
مجھ کو آ آ کے فرشتوں نے سلامی دی ہے
اشہل
شیرِ اللہ سے پائی ہے شجاعت مَیں نے
ساتھ شیرؑ کے دینِ کی نصرت مَیں نے
پائی کچھ اس عالم میں یہ عظمت مَیں نے
کی ہے شیرؑ و علمدار کی بیعت مَیں نے
دلِ مومن میں سدا میری عقیدت ہوگی
حشر تک میری شبوں کی زیارت ہوگی
ذوالجناح
ذوالجناح کرتا ہے، اے نورِ علی، اب یہ کلام
ساتھ قائمؑ کے کروں گا مَیں سرِ دہر قیام
چشمِ میری پشت پہ آئے گا زمانے کا امام
سارے عالم کو سجھ آئے گا تب میرا مقام
مَیں اُنہیں سارے شہیدوں کی گواہی کا دوں گا
جب آگاہ کو مَیں دیدِ پناہی کا دوں گا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.