Is Dour Ka Ilaj Faqat Zulfiqar Hai
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup recited by Joan Rizvi
دُنیا میں آج پھیلا ہوا انتشار ہے
حالات کہہ رہے ہیں حدِ انتظار ہے
یہ ہم نے کب کہا کہ ہمیں جنگ سے پیار ہے
پردہ اُٹھا کے غیب سے آئیں بڑی ہے آس
کر دیں اگر ظہور قیامت کی ہو گھڑی
لیں عدل کی فضاء میں کبھی چین کی تو سانس
ہر دور کے یزید کو لگ جائے کپ کپی
اس زندگی کا مولا کہاں اعتبار ہے
پورا حساب ہو جو ابھی تک اُدھار ہے
پانی پہ آ کے مولا مصلیٰ بچھائیے
جو بانیء ستم ہے نہ کوئی بھی بچ سکے
عیسیٰ پڑھیں نماز امامت کرائیے
کس میں ہے دم اجل کا جو اب سامنا کرے
ساحل سے موج کہتی یہی بار بار ہے
نہ چڑھنے کو پہاڑ نہ چھپنے کو غار ہے
زہرا کا لال غیب سے آئے تو دیکھنا
لکھ کر عریضہ یاد بھی کرتے ہیں صبح و شام
قبروں سے وہ نکل کے کہیں گے یہ دیکھنا
مجلس کا منقبت کا بھی کرتے ہیں اہتمام
یہ تو وہی ہے ہاتھ وہی ذوالفقار ہے
ذکرِ زکوٰۃ و خمس ہی ذہنوں پہ بار ہے
شورش کہیں فساد کہیں فتنہ سازیاں
مجلس میں کوئی جائے گا مسجد میں کوئی اور
اپنوں کے درمیان یہ ہوتی لڑائیاں
ماتم کوئی کرے گا تو اعمال کوئی اور
تہذیب کیا یہی ہے یہی کیا شعار ہے
آلِ نبیؐ نے کیا یہ کہا ایک بار ہے
مولا کسی طرح سے ہمیں ایک کیجئے
رضوی بس ایک درد کا دریا تھا بہہ گیا
لکھا عریضے میں ہے یہی دیکھ لیجئے
اشکوں نے گر کے جون عریضے پہ لکھ دیا
مولا دلوں کو جوڑ دو سب کی پکار ہے
وہ کہہ گئے جو حال دلِ بے قرار ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.