Betiyan Tou Sab Ko Piyari Hoti Hain
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Syed Raza Abbas Shah
زندانِ شام میں وہ قیامت کا وقت تھا سونپا گیا سکینہؑ کو جب سَر حُسینؑ کا
باباؑ کے زخمی چہرے سے خوں صاف جب کیا بالوں سے خاک جھاڑ کے بیٹی نے یہ کہا
تم تو کہتے تھے سکینہؑ، تم بِن میرا دل نہیں لگتا پھر کیوں اتنی دیر کی آنے میں تم نے باباؑ
بیٹیاں تو سب کو پیاری ہوتی ہیں نا باباؑ
دیکھو مجھ کو شام کے لوگوں نے کتنا مارا
آپ تھے جب تک ساتھ اے باباؑ یہ بیٹی شہزادی تھی
پیارے عمو چھوڑ گئے تھے پانی کو مَیں ترسی تھی
ناز اُٹھاتے تھے سب میرے سب کی پیاری بیٹی تھی
بس یہ مَیں ہی جانتی ہوں بازار میں کیسے چلتی تھی
ہاتھ بچھا رکھتے تھے زمیں پر گرمی میں جب میں چلتی تھی
شمر طمانچے مارتا تھا جب بھی تھک کر مَیں رُکتی تھی
مجھ کو سہارا دینے سب اُٹھ جاتے تھے جب گرتی تھی
مجھ کو یہ بھی یاد نہیں تھا کے میں کب سے پیاسی تھی
لیکن یہ معصوم سکینہؑ، جب گری ناقے سے باباؑ
اپنی بیٹیوں کو یہ شامی، لا لاکر دیتے تھے پانی
مجھے سہارا کیوں دینے کوئی بھی نا آیا
جب مَیں پانی مانگتی تھی کھاتی تھی کیوں دُرّہ
چوم کے باباؑ کا زخمی سَر بیٹی بولی اے باباؑ
باباؑ آپ کا قاتل میرے سامنے جب بھی آتا تھا
کچھ دن پہلے قید میں مجھ سے ملنے آئی تھی رملہ
آپ کا جس پہ خون لگا تھا وہ خنجر لہراتا تھا
میرے گوہر پہنی تھی مجھ کو اس بات کا غم نا تھا
باندھ کے مجھ کو رسی سے رہوار وہ جب دوڑاتا تھا
مَیں یہ سوچ کے رونے لگی جب دیکھا رملہ کا چہرہ
نوکِ سناں سے میرے چچا عباسؑ کا سر گر جاتا تھا
ظالم نے دربار میں باباؑ، مجھے کنیزی میں جب مانگا
نیزے پر اُس وقت اے باباؑ، آپ کو مَیں نے روتے دیکھا
اُس کے گھر میں بھی تو اِک بیٹی ہے کیوں نا سوچا
ظالم نے جب راہ میں بالوں سے مجھے کھینچا
آگ لگی تھی دامن میں اور ہاتھ تھا زخمی کانوں پر
سَر حُسینؑ پُکارا بیٹی یاد کرو نا وہ منظر
شامِ غریباں میں جب تم کو ڈھونڈنے نکلی مَیں باہر
باباؑ باباؑ کہتے ہوئے جب گرتی تھی تم لاشوں پر
باباؑ مَیں نے دیکھا تھا اپنی آنکھوں سے وہ منظر
مَیں نے ہی تو پاس بلایا تھا شہزادی یہ کہہ کر
دادا کو آواز پھپھی زینبؑ نے جب دی رو رو کر
سو جا میری بچی زخمی سینے پہ تُو سَر رکھ کر
بیٹی کی آواز پہ ہائے، دادا علیؑ تو ملنے آئے
بے سَر تھا بیٹی یہ باباؑ، پاس تمہارے کیسے آتا
لیکن میرا حال کیوں تم نے نا آکر پوچھا
تم نے جب آواز دے کر بولا تھا اے باباؑ
بیٹی باباؑ سے بولی اب چھوڑ کے مجھ کو مت جانا
کب تک ہے میری قسمت میں ظالم کے دُرّے کھانا
تم بھیا سجادؑ سے کہہ دو مجھ کو یہیں پر دفنانا
باپ سے باتیں کرتے کرتے آخری ہچکی کا آنا
اے ذیشانؔ و رضاؔ رو رو کر، باباؑ کے منہ پہ منہ رکھ کر
بالی سکینہؑ نے بس یہ کہتے ہوئے دم توڑ
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.