Phasliyan toot gayi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Rizwan Zaidi
زخم پہلو کے جو بچوں سے چھپائے تھے وہی
وقتِ رُخصت علی مولا سے بھی دیکھے نہ گئے
پسلیاں ٹُوٹ گئیں درد سہا زہرا نے
ہاتھ پہلُو سے ہٹایا نہیں مظلومہ نے
ظلم سہہ سہہ کے جو آنسو تھے ہمیشہ ہی رواں
وہ جو اِس بی بی کے رُخ پر تھے طمانچوں کے نشاں
اپنے بچوں سے چھپائے وہ سدا دکھیا نے
پسلیاں ٹُوٹ گئیں۔۔۔
غم کی اِس ماری کو کونین کی شہزادی کو
گھر کے حجرے میں بھی ہائے رے نبی زادی کو
اپنے بابا پہ بھی رونے نہ دیا اعدا نے
پسلیاں ٹُوٹ گئیں۔۔۔
جلتا در فاطمہ زہرا پہ گرا ہے دیکھو
کلمہ گویوں ذرا مظلومہ پہ کچھ رحم کرو
پِیٹ کے سر کو دہائی دی یہی فضہ نے
پسلیاں ٹُوٹ گئیں۔۔۔
تھی زباں پر یہ بُکا مجھ پہ بہت ظلم ہُوا
در گرا مجھ پہ تو محسن بھی ہُوا مجھ سے جُدا
کی ہے روتے ہوئے فریاد یہی زہرا نے
پسلیاں ٹُوٹ گئیں۔۔۔
ٹکڑے اُس کے سرِ دربار میں چُنتی ہی رہی
وہ سند ہائے میرے سامنے ٹکڑوں میں بنٹی
جو سند لکھ کے مجھے دی تھی میرے بابا نے
پسلیاں ٹُوٹ گئیں۔۔۔
فاطمہ زہرا کا تھا سانس بھی لینا دوبھر
پسلیاں ٹوٹی تِھیں پہلُو بھی شکستہ تھا مگر
یہ کسی کو نہ بتایا کبھی مظلومہ نے
پسلیاں ٹُوٹ گئیں۔۔۔
وہ جو کہتی تھی لحد شب کو بنانا میری
یا علی رات میں میت بھی اٹھانا میری
شب کی تاریکی میں دفنایا اُسے مولا نے
پسلیاں ٹُوٹ گئیں۔۔۔
اب جلوسوں میں ہے تابوت اُسی بی بی کا
حق بھی چھینا گیا اور جس پہ ستم ڈھایا گیا
جس کو اظہار ستایا ہے بہت دنیا نے
پسلیاں ٹُوٹ گئیں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.