Phasliyan pakde hue
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Mir Rehan Abbas
بابا تیری امت نے کیسا یہ ستم ڈھایا
کتنا غم ناک ہے زہرا کا افسانہ ہاے
گزری جو فاطمہ پہ کیسے کوئی بتلائے
لاش محسن کو لےء روتی ہے زہرا اب تک
گود میں فاطمہ کے زخمی ہے بچہ اب تک
پسلیاں پکڑے ہوے کرتی ہے نوحہ اب تک
کتنی تکلیف میں ہے روتی ہے زہرا اب تک
حشر میں باپ سے پوچھے گی کی مانگا کیا تھا
بابا آخر میرے محسن نے بگاڑا کیا تھا
گود میں فاطمہ کے زخمی ہے بچہ اب تک
پسلیاں پکڑے ہوے۔۔۔
آگ اور لکڑیاں لیکر جونہی دشمن آے
بولے دروازہء زہرا کو جلایا جاے
اس قدر ظلم ہوے روتی ہے فضہ اب تک
پسلیاں پکڑے ہوے۔۔۔
اس قدر کوہ ستم ٹوٹ پڑے ہیں ان پر
عمر اٹھارہ برس اور خمیدہ ہے کمر
ہاے دشوار ہے شہزادی کا چلنا اب تک
پسلیاں پکڑے ہوے۔۔۔
قبر شبیر سے لگتا ہے کی ماں لپٹی ہے
ہاے یہ روضہء سرور سے صدا اٹھتی ہے
بن نہ پایا نہیں اماں تیرا روضہ اب تک
پسلیاں پکڑے ہوے۔۔۔
سینۂ شاہ سے اصغر کو اٹھا لیتی ہے
چوم کر چہرۂ بے شیر کو یہ کہتی ہے
زخمی حلقوم لیےء تو بھی ہے سویا اب تک
پسلیاں پکڑے ہوے۔۔۔
روح غازی در زنداں پہ کھڑی روتی ہے
اک بھتیجی ہے جو کرتے میں ابھی سوی ہے
چھٹ نہ پائی نہیں زنداں سے سکینہ اب تک
پسلیاں پکڑے ہوے۔۔۔
ہے مبارک جونہی ریحان نے نوحہ یہ پڑھا
خلد سے روتے ہوے آے علی و زہرا
ہاے زخموں کا ہے شہزادی پہ پہرہ اب تک
پسلیاں پکڑے ہوے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.