Nanhe haathon se
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Mukhtar Hussain Fatehpuri
گھر میں جب آگ لگی جلنے لگا دروازہ
اور وہ جلتا ہوا در فاطمہ زہرا پہ گرا
ماں پہ گرتا ہوا در دیکھ کے بچّوں نے کہا
ننّھے ہاتھوں سے یہ دروازہ اٹھائیں کیسے
اِن بھڑکتے ہوئے شعلوں کو بجھائیں کیسے
دیکھو اے نانا ھے بابا کے گلے میں رسّی
صحن میں بے ادبانہ چلے آتے ہیں شقی
ظُلم سے اُن کے ہم امّاں کی بچائیں کیسے
ننّھے ہاتھوں سے۔۔۔
آپ آٹھ جاتے تھے امّاں کے ادب میں نا نا
اُن کو مسند پہ بٹھاتے تو بچھاتے تھے عبا
اِن مسلمانوں کو سب یاد دلائیں کیسے
ننّھے ہاتھوں سے۔۔۔
چاروں بچّوں نے وہ دروازہ اٹھانا چاہا
ہاتھ جلتے رھے اُس پر بھی یہی دھیان رہا
زخمی مادر کو اذیّت سے چھڑائیں کیسے
ننّھے ہاتھوں سے۔۔۔
درہ بازو پہ لگا ہے تو لہُو بہتا ہے
ہاتھ پہلو پہ ہے رُخسار بھی تو نیلا ہے
خاک کے فرش سے بستر پہ لٹائیں کیسے
ننّھے ہاتھوں سے۔۔۔
پھر کسی گھر کو یہ منظر نہ جہاں دکھلائے
بچّوں کے سامنے مادر پہ مصیبت آئے
بچّے کہتے تھے کہ نا نا کو بلائیں کیسے
ننّھے ہاتھوں سے۔۔۔
روتی ہیں زینب و کلثوم ہے اِک حشر بپا
باپ رسّی میں بندھا ماں پہ ہے دروازہ گرا
رسن ظُلم سے بابا کو چھڑائیں کیسے
ننّھے ہاتھوں سے۔۔۔
جبکہ دروازہ گرا آئی یہ زہرا کی صدا
ھو گیا ھے میرا محسن بھی شہید اے فضّہ
بولے حسنین کہ بھای کو بچائیں کیسے
ننّھے ہاتھوں سے۔۔۔
کم ہے یہ نوحہ جو خامہ نے ابھی لکّھا ہے
ہاں مگر زہرا کے اطفال پہ جو گذرا ہے
کرب وہ ماجد و مختار سنائیں کیسے
ننّھے ہاتھوں سے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.