Mazaar e zehra
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Ameer Hasan Aamir
بعد تدفین فاطمہ زہرا
شور و غل یہ مدینے میں اٹھا
کیوں علی نے ہمیں نہ بلوایا
کیوں اکیلے ہی ان کو دفنایا
ذلتیں ہم نہ یہ سنبھالیں گے
لاش کو کھود کر نکالیں گے
جب علی نے سنا تو غیض آیا
سرخ آنکھیں تھی زرد تھا چہرہ
مدتوں سے رکھا ہوا گھر میں
آج جنگلی لباس پہنا ہے
خون مرحب کا ہے پیا جس نے
آج وہ ذوالفقار اٹھی ہے
الاماں الحفیظ
یہ بولے کھینچ کے تلوار فاتح خیبر
کسی میں دم ہے تو آے مزار زہرا پر
رسن گلے میں پڑی صبر کر لیا میں نے
بتول روتی رہی صبر کر لیا میں نے
یہ حد ہے آگ لگی صبر کر لیا میں نے
مگر نہ آج بچیں گے تمہارے جسم پہ سر
کسی میں دم ہے تو آے مزار زہرا پر
الاماں الحفیظ
یہ بولے کھینچ کے تلوار۔۔۔
جہاں میں اب بھی شہ ذوالفقار زندہ ہے
سر بتول کا یہ تاجدار زندہ ہے
خدا کے دین کا اک زمہ دار زندہ ہے
ابھی جہاد کے بھولا ہوں میں جوہر
کسی میں دم ہے تو آے مزار زہرا پر
الاماں الحفیظ
یہ بولے کھینچ کے تلوار۔۔۔
زمانہ جان لے اک بار پھر علی ہوں میں
نبی کا نفس ہوں اللّٰہ کا ولی ہوں میں
کہ راز مخفی بھی اور آیت جلی ہوں میں
میں ہی ہوں قاتل مرحب و قاتل انتر
کسی میں دم ہے تو آے مزار زہرا پر
الاماں الحفیظ
یہ بولے کھینچ کے تلوار۔۔۔
گرایا پشت پہ دروازہ پر علی چپ تھا
رسول زادی گری خاک پر علی چپ تھا
شہید ہو گیا محسن مگر علی چپ تھا
چلی جو تیغ ہماری تو آج برسیں گے سر
کسی میں دم ہے تو آے مزار زہرا پر
الاماں الحفیظ
یہ بولے کھینچ کے تلوار۔۔۔
وقار عصمت و حرمت بھلا دیا تم نے
نبی کی بیٹی کے گھر کو جلا دیا تم نے
قدم جو ایک بھی آگے بڑھا دیا تم نے
نہ ڈال پاؤ گے بیوؤں کے سر پہ اک چادر
کسی میں دم ہے تو آے مزار زہرا پر
الاماں الحفیظ
یہ بولے کھینچ کے تلوار۔۔۔
بتاؤں کیسے جو تم نے گناہ کر ڈالا
نبی کی بیٹی کو ناراض آہ کر ڈالا
ہمارا ہنستا ہوا گھر تباہ کر ڈالا
تڑپ کے رہ گےء بچے گزر گیء مادر
کسی میں دم ہے تو آے مزار زہرا پر
الاماں الحفیظ
یہ بولے کھینچ کے تلوار۔۔۔
ہے خوب اجر رسالت ادا کیا تم نے
کہ چھوٹے بچوں کو ماں سے جدا کیا تم نے
زرا سا سوچو تو واللہ کیا کیا تم نے
صداییں دیتے ہیں مادر کو آہ رو رو کر
کسی میں دم ہے تو آے مزار زہرا پر
الاماں الحفیظ
یہ بولے کھینچ کے تلوار۔۔۔
نہ دیکھی ایسی جہاں نے علی کی پھر تصویر
کہ آشک آنکھوں میں حیدر کے ہاتھ میں شمشیر
پڑی تھی پاؤں میں غازی کے صبر کی زنجیر
مگر یہ کہتے تھے ہر ایک سے شیر کے تیور
کسی میں دم ہے تو آے مزار زہرا پر
الاماں الحفیظ
یہ بولے کھینچ کے تلوار۔۔۔
عجیب عینی مدینے کا آہ منظر تھا
لحد پہ زہرا کی بپھرا ہوا غضنفر تھا
لہو میں جوش شجاعت ملال دل پر تھا
فضا میں کہتی تھی عامر یہ تیغ لہرا کر
کسی میں دم ہے تو آے مزار زہرا پر
الاماں الحفیظ
یہ بولے کھینچ کے تلوار۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.