Maa zahra
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Shahid Baltistani
حسن حسین کی زخمی غریب ماں زہرا
طمانچے کھاتی ہے بیٹوں کے درمیاں زہرا
کمر کے ساتھ شکستہ ہوے ہیں بازو بھی
تمہاری ٹوٹی نہیں صرف پسلیاں زہرا
حسن حسین کی زخمی۔۔۔
جو سانس لیتی ہے پہلو میں درد بڑھتا ہے
کہ اب تو لے بھی نہیں سکتی ہچکیاں زہرا
حسن حسین کی زخمی۔۔۔
طمانچے مارا ہے ظالم نے اس طرح تم کو
زمیں پہ ٹوٹ کے بکھری ہیں بالیاں زہرا
حسن حسین کی زخمی۔۔۔
حسن ہی جانے کہ مسجد سے گھر تک آتے ہوے
طمانچے کھا کے گری ہے کہاں کہاں زہرا
حسن حسین کی زخمی۔۔۔
چھپاے کیسے علی کی نگاہ سے فضہ
تیرے لہو سے بھرا ہے تیرا مکاں زہرا
حسن حسین کی زخمی۔۔۔
کچھ اور بڑھتی ہے دشواری سانس لینے میں
کہیں جو سنتی ہے بچوں کی سسکیاں زہرا
حسن حسین کی زخمی۔۔۔
علی سے پوچھ رہے ہیں حسین روتے ہوئے
کیا تازیانے کے قابل ہے میری ماں زہرا
حسن حسین کی زخمی۔۔۔
کوئی سلام کا دیتا نہیں جواب اسے
ہے تنہا فاتح خیبر کی قدر داں زہرا
حسن حسین کی زخمی۔۔۔
بچا کے لای ہے خنجر تلے سے اپنا امام
بڑی امیر تھی زینب تمہاری ماں زہرا
حسن حسین کی زخمی۔۔۔
حسین تڑپے تکلم نہ کیوں تہہ خنجر
تمہارے ہاتھ پہ دروں کے تھے نشاں زہرا
حسن حسین کی زخمی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.