Janaza uth raha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Raza Abbas Zaidi
ہاے زہرا ہاے زہرا
وقتِ رخصت ہے یہ فاطمہ کا
ہو چکی ہے نماز جنازہ
بچے میت سے لپٹے ہوے ہیں
آخری ہے یہ دیدار ماں کا
نہیں ہے کوئی اب اپنا علی کو چھوڑ کر تنہا
علی کے گھر کی رونق جا رہی ہے
جنازہ اٹھ رہا ہے فاطمہ کا
بہت زخمی تھی خود لیکن علی کے زخم بھرتی تھی
اٹھا کر ہاتھ پہلو سے وہ آنسوں صاف کرتی تھی
اب آنسوں کون پوچھے گا بہت یاد آے گی زہرا
علی کے گھر کی رونق۔۔۔
جنازہ اٹھ رہا ہے۔۔۔
بلایا تھا جسے ماں نے کفن سے ہاتھ پھیلا کے
اسے لپٹا ہوا دیکھا تو فضہ نے کہا آ کے
جنازے سے حسین اٹھ جا کفن اب چھوڑ دے ماں کا
علی کے گھر کی رونق۔۔۔
جنازہ اٹھ رہا ہے۔۔۔
کفن جب بھی ہٹاتا ہے طمانچے یاد آتا ہے
وہ زخمی ماں کا چہرہ چوم کے آنسوں بہاتا ہے
حسن کو غم ہے چہرے پر طمانچے کا نشاں لے کر
علی کے گھر کی رونق۔۔۔
جنازہ اٹھ رہا ہے۔۔۔
سرہانے بیٹھ کر زینب نے ماں کا ہاتھ جب چوما
علی کہنے لگے دیکھا نشاں جب تازیانے کا
چھپا دو ثانیء زہرا یہ زخمی ہاتھ زہرا کا
علی کے گھر کی رونق۔۔۔
جنازہ اٹھ رہا ہے۔۔۔
نہ اب لوری سناے گی نہ وہ جھولا جھلاے گی
حسین اب فاطمہ کیسے تمہیں پانی پلاے گی
وصیت کر گیء زہرا تمہیں پالے گی اب فضہ
علی کے گھر کی رونق۔۔۔
جنازہ اٹھ رہا ہے۔۔۔
مدینے والوں اب اپنے گھروں میں چین سے سونا
ستاے گا نہ اب تم کو نبی کی بیٹی کا رونا
گرا تھا جس جلتا در وہ ٹوٹی پسلیاں لے کر
علی کے گھر کی رونق۔۔۔
جنازہ اٹھ رہا ہے۔۔۔
چھڑا کر ماں سے بچوں کو علی نے جب کفن باندھا
تڑپ کے ہاے زیشان و رضا کہنے لگے مولا
ہے تازہ زخم پہلو کا زرا آہستہ دو کاندھا
علی کے گھر کی رونق۔۔۔
جنازہ اٹھ رہا ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.