Haath pehlu se hataya
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Kazmi Brothers
ہاتھ پہلو سے ہٹایا نہیں جاتا بابا
درد نے کر دیا زہرا کو ضعیفہ بابا
میری تعظیم نہ کی ھاتھ اّٹھایا اس نے
سامنے بیٹوں کے توں کہہ کے بٌلایا اس نے
بھولوں کیسے میں امّت کا رویہ بابا
ہاتھ پہلو سے ہٹایا۔۔۔
اب وہ دربار کہاں بابا میرے قابل ہے
میرا قاتل بھی وہی ہے جو تیرا قاتل ہے
تیرے قاتل نے مجھے مارا تماچہ بابا
ہاتھ پہلو سے ہٹایا۔۔۔
یہ نہ سوچا کہ نبی آ کے جہاں رُکتے تھے
جہاں حسنین و علی شام و سحر جھکتے تھے
تیری ذھرہ پے وہ دروازہ گرایا بابا
ہاتھ پہلو سے ہٹایا۔۔۔
رسی سرتاج کی شہہ رگ کے قرییں روتی ہے
ان کی تلوار بھی اب زیرِ زمیں روتی ہے
چھپ کرتے ہیں علی رات کو گریہ بابا
ہاتھ پہلو سے ہٹایا۔۔۔
درد اتنے ہیں کہ سارے میں سناوں کیسے
زخم السے ہیں کہ حیدر کو دکھاوں کیسے
سارے ذخموں کی گواہ ہے میری فضہ بابا
ہاتھ پہلو سے ہٹایا۔۔۔
لاشِ عباس ع پہ صادق یہ کھلے گا عقدہ
ایک ہی محسن و عباس کا قاتل ہو گا
دشمنی ھو گی کہاں اس سے زیادہ بابا
ہاتھ پہلو سے ہٹایا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.