Ghar se nikal raha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Mir Rehan Abbas
گھر سے نکل رہا ہے جنازہ بتول کا
گریہ کناں ہے سارا گھرانہ بتول کا
بعد رسول اتنے مصایب ہوے نزول
اٹھارہ سال ہی میں ضعیفی ہوی بتول
ماتم سرا بنا ہے مدینہ بتول کا
گھر سے نکل رہا ہے۔۔۔
دروازہء علی کو عدو نے جلا دیا
پہلو پہ ہاے جلتا ہوا در گرا دیا
دشوار کر کے رکھ دیا جینا بتول کا
گھر سے نکل رہا ہے۔۔۔
دیوار و در کے درمیاں شہزادی آ گیء
اک کیل پسلیوں میں جو پیوست ہو گیء
ہاے شہید ہو گیا بیٹا بتول کا
گھر سے نکل رہا ہے۔۔۔
لے آے غسل خانے میں میت کو اعلیا
دوران غسل چیخ پڑے شیر کبریا
آیا نظر جو پہلو شکستہ بتول کا
گھر سے نکل رہا ہے۔۔۔
واللہ دے کوئی تو دلاسہ حسین کو
میت پہ ماں کی رونے نہ دینا حسین کو
رونے سے اس کے پھٹتا ہے سینہ بتول کا
گھر سے نکل رہا ہے۔۔۔
حسنین مضطرب ہے تو بے چین ہے علی
غش میں پڑی ہے زینب و کلثوم یا نبی
رنج و الم میں غرق ہے کنبہ بتول کا
گھر سے نکل رہا ہے۔۔۔
ہر سمت ہے مدینے میں شور بکا مجیب
روتے ہیں سر کو پیٹ کے أہل عزا مجیب
ریحان کے لبوں پہ ہے نوحہ بتول کا
گھر سے نکل رہا ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.