Fatema yateem hogayi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Farhan Ali Waris
جس کا جی چاہے وہ زہرا پہ ستم ڈھاتا ہے
پرسہ کیا ایسے یتیموں کو دیا جاتا ہے
میرا دروازہ جلایا کر دیا پہلو شکستہ
پسلیاں توڑ دی میری
یا علی حیدر کرار
کیا انہیں خبر نہیں علی
فاطمہ یتیم ہو گیء
زہرا ہاے زہرا زہرا ہاے زہرا
سوچتی تھی مصطفیٰ کی ہوں میں لاڈلی
پرسہ دینے آییں گے مدینے سے سبھی
انتظار فرش غم پہ کرتی رہ گیء
میرے سر پہ ہاتھ رکھنے آیا نہ کوئی
تین دن کے بعد آے تو
گھر میں جلا دیا علی
کیا انہیں خبر نہیں۔۔۔
ظالموں نے جلتا در گرایا جس گھڑی
ہاے مجھکو فکر تھی بس اپنے لال تھی
پسلیوں کے ٹوٹنے کی کب صدا سنی
میرا محسن اب نہیں بچا سمجھ گیء
جس کا انتظار تھا مجھے
چہرے اس کا دیکھ نہ سکی
کیا انہیں خبر نہیں۔۔۔
یا علی حیدر کرار
آپ سے نہ جانے ان کو کتنا بغض تھا
یا علی کہا تو آ گے ایک لعیں بڑا
کیا بتاؤں جب تلک وہ تھک نہیں گیا
ہاتھ پر وہ تازیانے مارتا رہا
انگلیوں میں اتنا درد ہے
ہاتھ نہ اٹھے گا اب کبھی
کیا انہیں خبر نہیں۔۔۔
کیسے یہ طمانچے کا نشاں چھپاؤں گی
پوچھے گا حسین تو میں کیا بتاؤں گی
کیسے اپنے بچوں سے نظر ملاؤں گی
سامنے حسن کے اب میں کیسے جاؤں گی
مجھ پہ ہاتھ اٹھا جہاں کبھی
بھول نہ سکوں گی وہ گلی
کیا انہیں خبر نہیں۔۔۔
مجھکو دیکھتے ہی مسند اپنی چھوڑ کر
کرتے تھے ادب میرا جہاں میرے پدر
جانے کب تلک کھڑی تھی میں مگر
بیٹھے ہنس رہے تھے سب وہ میرے حال پر
ان کا یہ سلوک دیکھ کر
دیکھو میں ضعیف ہو گیء
کیا انہیں خبر نہیں۔۔۔
زخمی اور یتیم میری طرح یا علی
ہوگی ایک لاڈلی میرے حسین کی
چھوٹی زہرا ہونے پہ ستم اٹھاے گی
قید ہو کے جب وہ شہر شام جاے گی
کھاے گی طمانچے شمر کے
راہ میں سکینہ بھی میری
کیا انہیں خبر نہیں۔۔۔
کیسے زیشان لکھے کس طرح فرحان پڑھے
فاطمہ زہرا پہ جو ظلم مدینے میں ہوے
بی بی ہر ظلم پہ کہتی تھی یہی رو رو کے
کیا یتیموں پہ ستم کرتا ہے کوی ایسے
ہے دعا وقت کسی ماں پہ نہ آے ایسا
سامنے بچوں کے جس طرح مجھے مارا گیا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.