Fatema roti rahi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Mir Hasan Mir
کلمہ گو ہنستے رہے فاطمہ روتی رہی
جلتے دروازے تلے سسکیاں لیتی رہی
ہاے ماں زینب کی
اتنی بے بس تھی مدینے میں نبی کی دختر
جلتا دروازہ کسی نے نہ اٹھایا آ کر
ہاے کیسا تھا ستم رکھ کے قرآں پہ قدم
آ گےء گھر میں شقی
کلمہ گو ہنستے رہے۔۔۔
طعنے سنتے تھے یہ بازار میں لوگوں سے علی
اس نے مارا تھا ہمارے بھی بزرگوں کو کبھی
ہم نے یوں بدلہ لیا قتل زہرا کو کیا
کچھ نہ کر پایا علی
کلمہ گو ہنستے رہے۔۔۔
جیسے قصاب زبیحے کو لیے جاتے ہیں
ایسے حیدر کو لعیں کھینچ کے لے آتے ہیں
آگے آگے ہیں علی پیچھے پیچھے وہ چلی
جو ہے زخموں سے بھری
کلمہ گو ہنستے رہے۔۔۔
یاد جب آتا ہے دل ہوتا ہے پارہ پارہ
کیسے حسنین کی مادر کو لعیں نے مارا
خون آنکھوں سے بہا صرف یا مہدی کہا
اور زمیں پر وہ گری
کلمہ گو ہنستے رہے۔۔۔
صرف پہلو نہیں بازو بھی شکستہ ہوگا
تم نے کس طرح جنازے کو سنبھالا ہوگا
کیسے تربت میں رکھا تنہا میت کو بھلا
میرے مظلوم علی
کلمہ گو ہنستے رہے۔۔۔
باپ کی قبر پہ دیواریں پکڑ کر جانا
اور روتے ہوئے اس حال میں واپس آنا
اس اذیت کی مگر ہے سکینہ کو خبر
فاطمہ کیسے چلی
کلمہ گو ہنستے رہے۔۔۔
ساتھ دربار سے روتے ہوئے آتے تھے حسن
ماں کے قدموں کے نشانوں کو مٹاتے تھے حسن
اس پہ یہ ظلم ہوا ہاتھ ظالم کا اٹھا
خاک پر زہرا گری
کلمہ گو ہنستے رہے۔۔۔
جس گھڑی ہو گیا رخسار میں پیوست گوہر
روکے کہتا رہا قد سے ابو طالب کا پسر
ایسے تکتا نہ تجھے موت آ جاتی مجھے
کاش اے بنت نبی
کلمہ گو ہنستے رہے۔۔۔
دن میں جب دھیان تکلم کا وہاں جاتا ہے
ٹوٹی قبروں پہ کوئی سایہ نظر آتا ہے
مجھکو لگتا ہے یہی اب بھی ہے بنت نبی
دھوپ میں بیٹھی ہوی
کلمہ گو ہنستے رہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.