Dhoop may hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Safdar Abbas
دھوپ میں ہے قبرِ زہرا ص گنبدِ خضرا کے پاس
یہ نبی ص کرتے ہیں نوحہ گنبدِ خضرا کے پاس
ناز سے پالا تھا اس کو تھی میری نورِ نظر
میری امت نے جلایا ہے میری بیٹی کا در
یہ ستم زہرا پہ ڈھایا گنبد خضرا کے پاس
دھوپ میں ہے قبرِ زہرا۔۔۔
ہائے اٹھارہ برس میں یہ ہوئے اس پر ستم
کیسے کیسے اور کیا کیا مل گئے زہرا کو غم
ہوگئی زہرا ضعیفہ گنبد خضرا کے پاس
دھوپ میں ہے قبرِ زہرا۔۔۔
اللہ اللہ صبر حیدر تھا یہ کیسا مرحلہ
فاطمہ زہرا کو جو دربار بلوایا گیا
امتحان مرتضی تھا گنبد خضرا کے پاس
دھوپ میں ہے قبرِ زہرا۔۔۔
میرا کلمہ پڑھنے والے کر گئے کیسی جفا
جب گلِ عصمت کے اوپر ہائے جلتا دروازہ گرا
ہوگیا پہلو شکستہ گنبد خضرا کے پاس
دھوپ میں ہے قبرِ زہرا۔۔۔
شبر و شبیر کو تم نے ہے کیسا غم دیا
ہائے بچوں کے سروں سے ماں کا سایا اٹھ گیا
روکے کہتی تھی یہ فضہ گنبد خضرا کے پاس
دھوپ میں ہے قبرِ زہرا۔۔۔
یہ صدائے مصطفیٰ ہے باقر و صفدر سنو
کوئی قبر فاطمہ زہرا پہ سایہ تو کرو
دھوپ میں ہے قبر زہرا گنبد خضرا کے پاس
دھوپ میں ہے قبرِ زہرا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.