Hussain aaj bhi hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Mukhtar Hussain Fatehpuri
حسین آج بھی ہے
ہے کربلا کا یہ دعوی حسین آج بھی ہے
یہ کس نے کہہ دیا کل تھا
حسین آج بھی ہے
حسین ہے کربلا حسین
یہ حر مزاج جسے کہتی ہے مجالس شبیر
بس کہ پل میں بدل جائے گی تیری تقدیر
عزا کے فرش پہ آجا
حسین آج بھی ہے
حسین ہے حسین
کرو حدیث انامل حسین پر بھی نظر
رسول پاک ہے زندہ یہ مانتے ہو اگر
تو پھر یہ ماننا ہوگا
حسین آج بھی ہے
حسین ہے حسین
نہ نام لیوا ہے کوئی نہ ہے نشان مزار
فنا یزید ہوا ختم ہوگیا دربار
مگر حسین کے جیسا
حسین آج بھی ہے
حسین ہے حسین
وہ اور ہوں گے جنہیں اپنی جان ہے پیاری
قضا کے خوف سے کیوں چھوڑ دیں عزاداری
ہے جب یقین ہمارا
حسین آج بھی ہے
حسین ہے حسین
جلوس میں جو کبھی ذوالجناح آتا ہے
تو اس کے چلنے کا انداز یہ بتاتا ہے
کہ جیسے دین پہ بیٹھا
حسین آج بھی ہے
حسین ہے حسین
شہادتوں کے لبوں پر ہے شکریہ زینب
نہ ہوتی تو تو سمٹ جاتی کربلا زینب
تیرے وسیلے سے زندہ
حسین آج بھی ہے
حسین ہے حسین
خدایا باقی ہے غیبت کا اور کتنا سفر
یہ پوچھتی ہیں بہتر شہادتیں مل کر
کہاں ہے تین سو تیرہ
حسین آج بھی ہے
حسین ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.