Darbar ke diye
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Shadman Raza
چھایا حیات بنت نبی پر وہ انتظار
تڑپے تہہ مزار بھی محبوب کردگار
دربار میں کھڑی رہی عصمت کی تاجدار
اس واقعے پہ آج بھی انسان ہے اشک بار
ہاے زہرا بڑی مظلوم ہے زہرا
دربار کے دیےء ہوے زخموں نے کہہ دیا
دنیا میں چاند روز کی مہمان ہے فاطمہ
فضہ تیرے سپرد ہے اب میرے گلستان
تو میرے بعد ہے میرے بچوں کی پاسباں
بچے تجھے سمجھتے میری طرح سے ماں
اب میرا پیار تیری محبت سے ہو عیاں
احساس رنج ہو نہ کسی نور عین کو
رکھنا سکوں سے میرے حسن اور حسین کو
ہاے زہرا بڑی مظلوم ہے زہرا
دربار کے دیےء ہوے۔۔۔
دنیا میں چاند روز کی۔۔۔
فضہ میرے حسین پہ روے گی بیکسی
سحرا کی نظر ہوگی میرے گھر کی روشنی
لٹ جاے تمام کمای بتول کی
خلاق دو جہاں تجھے بخشے گا زندگی
رکھنا خیال صدمہء زہرا سوا نہ ہو
زینب کے سر سے چادر زینب جدا نہ ہو
دربار کے دیےء ہوے۔۔۔
دنیا میں چاند روز کی۔۔۔
آخر میں بوتراب سے اتنا کیا کلام
میرا سلام لیجیےء اے صاحبِ انام
زہرا پہ اس جہاں کے مراحل ہوے تمام
میں جا رہی ہوں چھوڑ کے یہ عارضی مقام
اکھڑی ہے سانس وقت میں وسعت کوئی نہیں
کہہ دیجیےء کہ مجھ سے شکایت کوی نہیں
دربار کے دیےء ہوے۔۔۔
دنیا میں چاند روز کی۔۔۔
فرمایا بوتراب نے اے جانِ مصطفیٰ
تم سے مجھے ہو کوئی شکایت یہ کیا کہا
کاٹی تمام عمر بہ خوشنودیء خدا
قرآن جس پہ ناز کرے وہ عمل کیا
تابندگیء شہر نبی فاطمہ سے ہے
روشن چراغ مصطفیٰ بھی فاطمہ سے ہے
دربار کے دیےء ہوے۔۔۔
دنیا میں چاند روز کی۔۔۔
ناگاہ فاطمہ نے کیا خلد کا سفر
رونے لگے وصیء پیمبر جھکا کے سر
شور فغاں میں ڈوب گیا فاطمہ کا گھر
فضہ پکاری پاؤں کے تلوؤں کو چوم کر
اے شاہزادی اے میری مخدومہ الوداع
عصمت کی روح صابرہ مظلومہ الوداع
دربار کے دیےء ہوے۔۔۔
دنیا میں چاند روز کی۔۔۔
وہ جوش غم وہ فاطمہ کے پھول بیقرار
سب سے ذیادہ زینب و کلثوم اشکبار
غم گیں فضا پہ لکھ گےء آنکھوں کے آب شار
اٹھتا ہے اب جنازہء خاتون روزگار
منظر میں احترام وصیت لیےء ہو ے
تابوت پر بھی رات ہے پردہ گےء ہوے
دربار کے دیےء ہوے۔۔۔
دنیا میں چاند روز کی۔۔۔
تابوت سوے قبر پیمبر ہوا رواں
جس طرح گلستاں کی طرف بوے گلستاں
لیکن وہ بے ضمیر نظر آے درمیاں
مشہور ہے جو آل نبی کے عدوے جاں
خوشبو تڑپ کے رہ گیء گلشن نہ مل سکا
بیٹی کو اپنے باپ کا دامن نہ مل سکا
دربار کے دیےء ہوے۔۔۔
دنیا میں چاند روز کی۔۔۔
اے جنت البقیعء مدینہ سلام لے
ٹکڑا دل رسول کا سونپا گیا تجھے
ظاہر یہ غم ہے آج بھی قبر بتول سے
روضہ گرایا دشمن آل رسول نے
صدیوں کے بعد بغض کی حالت وہی رہی
پیکر بدل گےء پہ سخاوت وہی رہی
دربار کے دیےء ہوے۔۔۔
دنیا میں چاند روز کی۔۔۔
اے جنت البقیع وہ دن آے گا ضرور
غارت گھروں کا خاک میں مل جاے گا غرور
انسان سے کہے گا خود انسان کا شعور
اسلام کی حیات ہے آلِ نبی کا نور
اک دن تمام قصر رونق گرایینگے
پھر بھی مثال روضہء زہرا بنائیں گے
دربار کے دیےء ہوے۔۔۔
دنیا میں چاند روز کی۔۔۔
قیصر بہ ذکرِ فاطمہ زہرا دعا کرو
یا رب امام وقت کا جلدی ظہور ہو
آواز آے اہلِ مودت اٹھو اٹھو
جلدی چلو مدینہء خیرالوریٰ چلو
مجلس بپا ہے روضہء بنت رسول میں
ذکرِ حسین چاہیئے باغ بتول میں
دربار کے دیےء ہوے۔۔۔
دنیا میں چاند روز کی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.