Chadare fatema
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Shadman Raza
رزق ہے جنبش چادر فاطمہ
روزی عالمیں چادر سیدہ
ا ے مادر بے کس مادر مظلوم مادر
تری خاکِ پا سے نہ ہم سر اٹھائیں
وہیں پر اجل کو گلے سے لگائیں
رہے تری چادر کا سایہ سروں پر
شفاعت کے سائے میں ہم سر چھپائیں
ا ے مادر بے کس مادر۔۔۔
رزق ہے جنبش۔۔۔
فلک پر دلوں کے تجھی سے اجالا
جہانوں کو تیری دعا نے سنبھالا
ہوں کیسے ہی طوفاں ہوں کیسی قیامت
مصیبت سے تو نے ہمیشہ نکالا
ا ے مادر بے کس مادر۔۔۔
رزق ہے جنبش۔۔۔
یہ پلکیں اطاعت کی دائم بچھائیں
ہمیشہ اسی در پہ یہ سر جھکائیں
غلاموں کی خواہش دعا ا ور تمنّا
گھرانے پہ زہرا کے جانیں لٹائیں
ا ے مادر بے کس مادر۔۔۔
رزق ہے جنبش۔۔۔
غضب ہے ترے گھر کا و ہ در جلا تھا
جو بابِ شفا تھا جو بابِ عطا تھا
پیمبر بھی اُس در پہ آتے تھے پیہم
خدا کی رضا تھا جو بابِ خدا تھا
ا ے مادر بے کس مادر۔۔۔
رزق ہے جنبش۔۔۔
عدو سے لڑِیں بھی علی کو بچایا
سہا تازیانہ طمانچہ بھی کھایا
ولایت کی خاطر ہی محسن گنوایا
امامت کے منصب کو پھر بھی بچایا
ا ے مادر بے کس مادر۔۔۔
رزق ہے جنبش۔۔۔
علی کے گلے میں جو رسّی پڑی تھی
مصیبت یہ زہرا کے دل پر بڑی تھی
نہ تھا کوئی یاور غضب کی گھڑی تھی
علی کے دامن کو پکڑے کھڑی تھی
ا ے مادر بے کس مادر۔۔۔
رزق ہے جنبش۔۔۔
یہ مخلص پہ ا ور شادماں پہ کرم ہیں
غمِ سیّدہ میں جو آنکھیں یہ نم ہیں
مودت کی راہوں کے یہ ہمسفر ہیں
ولایت کے رستے پہ یہ ہم قدم ہیں
ا ے مادر بے کس مادر۔۔۔
رزق ہے جنبش۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.