Buland hote hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Mir Rehan Abbas
بلند ہوتے ہیں شعلے بتول کے گھر سے
یہی وفا ہے مدینے کی کیا پیمبر سے
شکستہ پہلو سے بہتا ہوا لہو تو نہیں
لہو جو پونچا ہے زہرا نے اپنی چادر سے
بلند ہوتے ہیں شعلے۔۔۔
ہوا ہے کیسے یہ پیوست گال میں گوہر
لہو ٹپکتا ہے کیسا بتول رونے سے
بلند ہوتے ہیں شعلے۔۔۔
اسیر کرتے ہیں داماد مصطفیٰ کو وہی
وفا کا دعویٰ تھا جن کو جنابِ سرور سے
بلند ہوتے ہیں شعلے۔۔۔
یہ کون ہے کہ جو کرتا ہے ظلم سے جاری
نبی کی بیٹی پہ فتویٰ نبی کے ممبر سے
بلند ہوتے ہیں شعلے۔۔۔
چھپائی کیوں گیء زہرا کی قبر بات کھلی
حسن کی لاش پہ یثرب میں تیر جب برسے
بلند ہوتے ہیں شعلے۔۔۔
جو کاینات کی مالک ہے اسکی تربت کا
نشاں بنایا گیا ہے بس ایک پتھر سے
بلند ہوتے ہیں شعلے۔۔۔
ہے آب و دانا تو حق مہر فاطمہ لیکن
ہے اس کا کنبہ جو صحرا میں آب کوثر سے
بلند ہوتے ہیں شعلے۔۔۔
سفید ہو گےء کیوں سر کے بال زہرا کے
لعیں نے کیا کہا اکبر نبی کی دختر سے
بلند ہوتے ہیں شعلے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.