Baba tumhari fatema
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Shahid Baltistani
کتنی غریب ہو گیء بابا تمہاری فاطمہ
جس کو کہا تھا تم نے اس کو ہی سب کے سامنے
جھوٹی کہا گیا
دربار جب سے دیکھا ہے کتنی ضعیف لگتی ہوں
پہچان یوں کراتی ہوں رو رو کے خود بتاتی ہوں
ہاں میں ہوں فاطمہ
کتنی غریب ہو گیء۔۔۔
بیٹوں کے سامنے بابا میں نے طمانچے کھایا ہے
کچھ بھی نہیں وہ کہتا ہے بس سہما سہمہ رہتا ہے
بیٹا حسن میرا
کتنی غریب ہو گیء۔۔۔
زخمی ہے انگلیاں اتنی تسبیح پڑھ نہیں سکتی
کنفز نے تازیانے سے تیری فاطمہ کے ہاتھوں پہ
ایسا ستم کیا
کتنی غریب ہو گیء۔۔۔
جس در پہ آپ رکتے تھے اس در پہ آگ لے آئے
اپنے ہی در کے شعلوں میں دیکھی ہے تیری بیٹی نے
یثرب میں کربلا
کتنی غریب ہو گیء۔۔۔
شدت تھی وہ طمانچے کی میں منہ کے بل زمیں پہ گری
اتنا وہ ہاتھ تھا بھری ٹوٹا ہے گوشوارہ بھی
زخمی ہے فاطمہ
کتنی غریب ہو گیء۔۔۔
بابا مدینے والوں نے ماری ہے ٹھوکریں مجھکو
واحد یہ جرم تھا میرا مجھ سے علی بچانے کا
بدلہ لیا گیا
کتنی غریب ہو گیء۔۔۔
ایک ٹوٹی قبر سے محسن آواز اب بھی آتی ہے
یہ کیسے ہو گیا بابا میں زندہ رہ گیء میرا
محسن نہیں بچا
کتنی غریب ہو گیء۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.