Al amaan al amaan
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Mir Hasan Mir
الاماں الاماں یا صاحب الزمان
ٹوٹی ہوئی ہیں آج بھی زہرا کی پسلیاں
حق مانگنے جو فاطمہ دربار میں گئی
بیٹھے رہے تھے لوگ کسی نے حیا نہ کی
زینب کی ماں کھڑی رہی لوگوں کے درمیاں
الاماں الاماں۔۔۔
وا غربتا بتول پہ کیسی تھی وہ گھڑی
تم کو صدائیں دیتی تھی بیٹی رسول کی
دیوار اور جلتے ہوئے در کے درمیاں
الاماں الاماں۔۔۔
ڈھاتی رہی ستم پہ ستم امت رسول
دیتی رہی اذان ولایت وہاں بتول
زہرا کی بات سنتا نہیں تھا کوئی جہاں
الاماں الاماں۔۔۔
دربار سے جو لوٹ کے بنت نبی گئی
گزرے نہ اس مقام سے مولا حسن کبھی
جس کوچے میں گری تھی زمیں پر حسن کی ماں
الاماں الاماں۔۔۔
آباد ہوگا پھر سے وہ اجڑا ہوا دیار
تب ہوگا ختم فاطمہ صغریٰ کا انتظار
اکبر کی طرح دوگے مدینے میں جب اذاں
الاماں الاماں۔۔۔
تنہائی قید درے یتیمی اندھیرا گھر
حد ہے یہ کوئی جا بھی نہیں سکتا قبر پر
اب اور کتنا ہوگا سکینہ کا امتحان
الاماں الاماں۔۔۔
کڑیل جواں کو روتی ہے تربت میں آج بھی
اکبر کے کلیجے سے برچھی نکل گئی
زینب کے دل سے نکلی نہیں آج تک سناں
الاماں الاماں۔۔۔
بالی سکینہ قید ہے زنداں میں آج بھی
اکبر ہے انتظار میں بیٹی حسین کی
اب بھی سنائی دیتی ہے بچی کی ہچکیاں
الاماں الاماں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.