Akeli zahra
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Shahid Baltistani
کلمہ گویوں میں ہوی ہاے اکیلی زہرا
سر دربار گیء بابا جھٹلای گیء
آپ کی بیٹی زہرا
کر کے تحریر کے ٹکڑے مجھے لوٹایا گیا
میرے معصوم گواہوں کو بھی جھٹلایا گیا
قہقہے سہتی رہی اور سند چنتی رہی
آپ کی سچی زہرا
کلمہ گویوں میں ہوی۔۔۔
جس گلی میں مجھے ظالم نے طمانچہ مارا
جیتے جی میرے حسن پھر نہ وہاں سے گزرا
وہ نہ بھولے گا کبھی اس سے دیکھی نہ گیء
خاک پہ گرتی زہرا
کلمہ گویوں میں ہوی۔۔۔
زخم پہلو کا تو بچوں سے چھپایا بابا
پر یہ صدمہ مجھے تربت میں بھی تڑپاے گا
جب طمانچے کھاے دیکھا بچوں نے میرے
روک نہ پای زہرا
کلمہ گویوں میں ہوی۔۔۔
آپ کی زہرا تھی جلتی ہوے در کے نیچے
اور ہنستے ہوے اس پر سے مسلمان گزرے
ٹھوکریں کھاتی رہی یا علی کہتی رہی
بابا تمہاری زہرا
کلمہ گویوں میں ہوی۔۔۔
پسلیاں ٹوٹ کے الجھی ہے کچھ ایسے بابا
سانس لیتی ہوں تو دکھتا ہے کلیجہ میرا
ہے شکستہ بازو کر نہیں سکتی رکوع
زخمی ہے اتنی زہرا
کلمہ گویوں میں ہوی۔۔۔
مجھ سے کہنے لگی زینب اے ضعیفہ بی بی
یہ ہے کونین کی ملکہ کا مصلہ بی بی
ایسی حالت تھی میری وہ نہ پہچان سکی
سامنے بیٹھی زہرا
کلمہ گویوں میں ہوی۔۔۔
میخ جلتے ہوے دروازے کی جب سرخ ہوی
میرے پہلو سے وہ محسن کے بدن میں اتری
ہاے دم توڑ گیا وہ مجھے چھوڑ گیا
زندہ ہے پھر بھی زہرا
کلمہ گویوں میں ہوی۔۔۔
قبر زہرا کی خموشی یہ بکا کرتی ہے
میرا محسن ہے جو پردے میں میرا مہدی ہے
اب فدک کی خاطر اپنے حق کی خاطر
کچھ نہ کہے گی زہرا
کلمہ گویوں میں ہوی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.