Ghabraegi zainab
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Nasir Jahan
گھبراۓ گی زینب گھبراۓ گی زینب
بھیا تمہيں گھر جا کے کہاں پاۓ گی زینب
کیسا یہ بھرا گھر ہوا برباد الہی
کیا آئ تباہی
اب اس کو نہ آباد کبھی پاۓ گی زینب
گھبراۓ گی زینب
گھر جا کے کسے دیکھے گی قاسم ہیں نہ عباس
اکبر سے بھی ہے آس
اپنے علی اصغر کو کہاں پاۓ گی زینب
گھبراۓ گی زینب
پوچھیں گے جو سب لوگ کہ بازو کہ ہوا کیا
یہ نیل ہے کیسا
کس کس کو نشاں رسّی کے دکھلاۓ گی زینب
گھبراۓ گی زینب
پھٹ جاۓ گا بس دیکھتے ہی گھر کو کلیجہ
یاد آؤ گے بھیا
دل ڈھونڈے گا تم کو اب کہاں پاۓ گی زینب
گھبراۓ گی زینب
بے پردہ ہوئ قید بھی خواہر نے اٹھائ
پر موت نہ آئ
کیا جانیے کیا کیا ابھی دکھ پاۓ گی زینب
گھبراۓ گی زینب
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.