Aaj bhi aati hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Ali Rizvi Sachay
آج بھی آتی ہے زہرا کی بقیع سے صدا
بعد بابا کے کیئے امت نے کیا جور و جفا
کیسے وہ غربت کا منظر بھول پاؤں گی بھلا
تخت پہ بیٹھا تھا ظالم اور کھڑی تھیں فاطمہ
سیدہ کو بر سرِ دربار جھٹلایا گیا
آج بھی آتی ہے۔۔۔
ہائے بابا بعد تیرے ہم نے جھیلے وہ ستم
پسلیاں ٹوٹی ہیں میری پشت ہے زخموں سے خم
آ کے دیکھو تو ذرا کیا حال میرا ہو گیا
آج بھی آتی ہے۔۔۔
جل رہا تھا در ہمارا اور سب ہنستے رہے
مرتضی کو باندھ کر گردن سے رسی لے گئے
دے رہی تھی آپ کو رو رو کے میں اس دم صدا
آج بھی آتی ہے۔۔۔
در گرایا جب ستمگاروں نے میں کہتی رہی
ظالموں میں فاطمہ زہرا ہوں میں بنت نبی
رحم نہ کھایا کسی نے اور نہ آئی کچھ حیا
آج بھی آتی ہے۔۔۔
زینب و کلثوم حسنین و علی مرتضٰی
رو رہے تھے سب کے سب ہلتا تھا عرش کبریا
جس گھڑی بابا میرا محسن ہوا ہم سے جدا
آج بھی آتی ہے۔۔۔
آئے گا ایک روز جب الٹے ہوئے اپنی نقاب
لے گا اک اک سے میری غربت کا وہ سارا حساب
انتقام فاطمہ لے گا فقط محسن میرا
آج بھی آتی ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.