Acha hua sughra
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Return to Madina recited by Mir Hasan Mir
جب اہلِ حرم آئے مدینے میں پلٹ کر
صغراسے کہا ثانیئِ زہرا نے لپٹ کر
اچھا ہوا صغرا تُو میرے ساتھ نہیں تھی
زینب کا تھا نوحہ ہم لُٹ گئے صغرا
اچھا ہوا صغر۔۔۔۔
اس بات پہ کرتی ہوں ادا شکر کا سجدہ
ہم میں سے کسی کا تو سلامت رہا پردا
کس طرح بتاوں تجھے دل پھٹتا ہے میرا
سادات کی غیرت کا تقاضہ نہیں صغرا
بس اتنا ہی کہتی ہوں ردا جب کہ /چھنی تھی
اچھا ہوا صغر۔۔۔۔
تُو پوچھتی ہے سرخ ہے کیوں آپ کی چادر
آتجھ کو بتاؤں میرے مظلوم کی دختر
جب خیمے میں شہ لائے تھے لاشِ علی اکبر
میں ایسے گری لاش کے پہلو میں تڑپ کر
اکبر کے لہو سے یہ ردا سرخ ہوئی تھی
اچھا ہوا صغر۔۔۔۔
کس طرح رہی ہوگی تو اِس گھر میں اکیلی
احساس مجھے ہے تیرے اس درد کا بیٹی
لیکن تو ضعیفہ ہوئی فرقت میں پدر کی
تجھ کو تو خبر صرف شہادت کی ہے پہنچی
میں شہ کا گلا کٹتے ہوئے دیکھ رہی تھی
اچھا ہوا صغر۔۔۔۔
کیابغض ہے باباسے مسلمانوں کو جانے
پھر آئے تھے گھر فاطمہ زہرا کا جلانے
سب آکے کھڑے ہوگئے بیکس کے سرہانے
اُسوقت ستمگاروں سے عابد کو بچانے
بیٹی پھوپھی اماں تیری شعلوں پہ چلی تھی
اچھا ہوا صغر۔۔۔۔
تنہائی میں لے جاکے کبھی پوچھنا ماں سے
کس طرح سے گزری تیری ماں بہنیں وہاں سے
باتیں جہاں سب کرتے ہیں پتھر کی زباں سے
شب کو بھی گزرنا بڑا مشکل جہاں سے
بے پردہ وہاں دن میں ہر اک بی بی کھڑی تھی
اچھا ہوا صغر۔۔۔۔
نانا کا مدینہ ہے نہیں خوف کسی کا
دل کھول کے رو کون تجھے مارے گادُرہ
لیکن کبھی بابا پہ جو رو تی تھی سکینہ
سیلی کبھی دُرہ کبھی کھاتی تھی طمانچہ
رو نے پہ بھی معصومہ کے پابندی لگی تھی
اچھا ہوا صغر۔۔۔۔
اے میر تکلم وہ قیامت تھی قیامت
زینب نے سنائی جو سکینہ کی شہادت
سادات پہ گزرا تھا عجب عالمِ غربت
زنداں کے اندھیرے میں بنائی گئی تربت
دم توڑتی بچی نے بھی یہ بات کہی تھی.
اچھا ہوا صغر۔۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.