Zindan se reha hoke
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Rehaai recited by Nadeem Sarwar
غم کھائے گی زینب مر جائے گی زینب
زنداں سے رہا ہو کے جو گھر جائے گی زینب
بِن بھائی کے جائے گی تو مر جائے گی زینب
زنداں سے رہا ہو کے۔۔۔
گھر لُٹ گیا پردیس میں ویران ہے دُنیا
زنداں سے رہا ہو کے بھی زندان ہے دُنیا
اس قید سے گھر جا کے بھی کیا پائے گی زینب
زنداں سے رہا ہو کے۔۔۔
سُونا ہے مکاں جس میں وہ شیدائی نہ ہوں گے
گھر ہو گا مگر گھر میں میرے بھائی نہ ہوں گے
تا حشر یہی بھائی کا غم کھائے گی زینب
زنداں سے رہا ہو کے۔۔۔
بچپن ہے جہاں عون و محمد نے گزارا
اب اُن در و دیوار کی تنہائی نے مارا
اب اُن کے نہ سائے میں کبھی جائے گی زینب
زنداں سے رہا ہو کے۔۔۔
بے آس مجھے کر گئے بچے میرے کمسن
بِن بیٹوں کے کہلائی تو کہلائی میں لیکن
بِن بھائی کے دُنیا میں نہ کہلائے گی زینب
زنداں سے رہا ہو کے۔۔۔
اس بات پہ حیرت ہے بہت اہلِ وطن میں
عباس سے بھائی کی بہن اور رسن میں
رُوداد یہ کس طرح سے بتلائے گی زینب
زنداں سے رہا ہو کے۔۔۔
آیا نہ کوئی لوٹ کے بھائی تیرا صغریٰ
سُونا ہی رہے گا بنی ہاشم کا محلہ
کیا دے کے دلاسے اُسے بہلائے گی زینب
زنداں سے رہا ہو کے۔۔۔
ہائے روتی ہوئی جب جائوں گی نانا کی لحد پر
اور ماجرا پوچھے گی وہان روحِ پیعمبر
کُرتا وہ پھٹا بھائی کا دِکھلائے گی زینب
زنداں سے رہا ہو کے۔۔۔
آیا نہ ہلال ایسا کڑا وقت کسی پر
کس کس کے لیے روئے گی یہ بے کس و مضطر
کس کس کا وہاں فاتحہ دلوائے گی زینب
زنداں سے رہا ہو کے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.