Mehdi ke sar se
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hasan Askari (a.s) recited by Ahmed Raza Nasiri
مہدی کے سر سے سایہ بابا کا اٹھ گیا ہے
رنج و الم میں ڈوبا نرجس کا لاڈلا ہے
مہدی کے سر پہ آئی دستارِ عسکری ہے
بر مسندِ امامت فرزند آخری ہے
یا رب ہو خیر اسکی فریادِ فاطمہ ہے
مہدی کے سر سے سایہ۔۔۔
سوکھے لبوں سے غش میں پانی طلب کیا جو
ہونٹوں سے جام کیونکر واپس پلٹ دیا وہ
کیا یاد عسکری کو عباس ا گیا ہے
مہدی کے سر سے سایہ۔۔۔
خاکِ یتیمی سر میں سِن پانچ سال لوگوں
غیبت میں جا رہا ہے نرجس کا لال لوگوں
نورِ امام اوجھل نظروں سے ہو رہا ہے
مہدی کے سر سے سایہ۔۔۔
آئی ہے فوج گھر سے مہدی کو آج لینے
در فاطمہ کا کھولا پھر ٹھوکریں لگا کے
ہاتھوں میں تیغ کوئی شعلے لیے کھڑا ہے
مہدی کے سر سے سایہ۔۔۔
کس آبرو سے بیٹا میّت اٹھا رہا ہے
خود باپ کا جنازہ مہدی پڑھا رہا ہے
زہرا کو یاد آئی عابد کی کربلا ہے
مہدی کے سر سے سایہ۔۔۔
مہدی کو کوئی پرسہ دیتا گلے لگا کے
غیبت میں عسکری کی فرشِ عزا بچھا کے
عباس کو کبھی وہ زینب کو ڈھونڈتا ہے
مہدی کے سر سے سایہ۔۔۔
کتنا الہی اس کی غیبت میں طول ہو گا
پردے میں کب تلک وہ نرجس کا پھول ہو گا
اذنِ ظہور ہو اب دل کی یہی دعا ہے
مہدی کے سر سے سایہ۔۔۔
ہو بھیڑ پھر کھڑی وہ کوفہ کے راستوں پر
پتھر برس رہے ہوں اکبر کے قاتلوں پر
خولی کا سر سناں پر اس بار دیکھنا ہے
مہدی کے سر سے سایہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.