Darona jangal
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Mukhtar Zaidi
دارونا جنگل ہے رات اندھیری
ستارے کچھ جھل ملا رہے ہیں
پڑے ہیں ریتی پر چاند لاشے
جو اپنا غم آ پ کھا رہے ہیں
ہے ایسا بگڑا ہوا زمانہ
نہ گور اور نہ شامیانہ
فلک پہ ابرِ سیاہ کے لگ کے
اُداسی بن بن کے چھا رہے ہیں
دارونا جنگل۔۔۔
نہ کوئی زخموں کا دھونے والا
نہ کوئی لاشوں پہ رونے والا
پرند کچھ کر رہے ہیں نالے
درند کچھ خاک اُڑا رہے ہیں
دارونا جنگل۔۔۔
یہ لوگ ہیں کون خاندان کے
جو کوی پوچھے تو کس سے پوچھیں
مسافرت ہے جو ادھر سے
وہ راہ کترا کے جا رہے ہیں
دارونا جنگل۔۔۔
شکستہ ہتھیار کچھ پڑے ہیں
یہ لوگ شاید یہاں لڑے ہیں
لڑے تو وہ ہوں گے جو بڑے ہیں
نظر تو بچے بھی آ رہے ہیں
دارونا جنگل۔۔۔
حرم پہ کیا گزری بعد ان کے
نہیں ضرورت کے کوئی پوچھے
جلے ہوئے جو پڑے ہیں خیمے
وہ اُن کا لُٹنا بتا رہے ہیں
دارونا جنگل۔۔۔
شفاعتِ حشر کرنے والے
کہے جو وہ کر گزرنے والے
غیور ہیں وہ مرنے والے
جو ہم کو اب تک رُلا رہے ہیں
دارونا جنگل۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.