Jaise hi ghar se
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hasan (a.s) recited by Hasan Sadiq
جیسے ہی گھر سے نکلا تابوت مجتبیٰ کا
تیروں میں گھر گیا تھا فرزند مرتظی کا
ہاے حسن ہاے حسن
کیا ملا تجھے اے ظالم قاسم یتیم کر کے
کچھ بھی نہ خوف آیا دل میں تیری خدا کا
ہاے حسن ہاے حسن
جیسے ہی گھر سے نکلا۔۔۔
روکو نہ آج مجھکو اے چاند فاطمہ کے
دم گھٹ رہا ہے اب تو عباس کی وفا کا
ہاے حسن ہاے حسن
جیسے ہی گھر سے نکلا۔۔۔
ہے دوسرا آل امامت کا زہرا کے جگر پارہ
پنجتن کے پاک گھرانے میں تھا حسن ہی سب کو پیارا
کیوں بارش کی ہے تیروں کی کیوں زہر سے اس کو مارا
تھا جسکا بابا نبیوں کا مشکل میں پاک سہارا
تیروں میں ہے جنازہ ہاے اس کے لاڈلے کا
ہوتا تھا جو سہارا مشکل میں انبیاء کا
ہاے حسن ہاے حسن
جیسے ہی گھر سے نکلا۔۔۔
ذاتی نہ کوئی جنگ تھی اولاد مرتظی کی
سارا معاملہ تھا اسلام کی بقا کا
ہاے حسن ہاے حسن
جیسے ہی گھر سے نکلا۔۔۔
ہے رحمت دونوں عالم کی کیوں بھولے اس ہستی کو
طوفان کا بالکل خوف نہیں اسلام کی اب کشتی کو
جو قلم و دوات نہ دے پاے ہے اپنے پاک نبی کو
وہ اجر رسالت کیا دینگے ہاے اپنے نبی عربی کو
قلم و دوات کاغذ جو نہ دے سکے نبی کو
وہ ہاے کرے گی امت کیا آل مصطفیٰ کا
ہاے حسن ہاے حسن
جیسے ہی گھر سے نکلا۔۔۔
پہچان نے سے قاصر ہر کوئی امیر ہو گا
قاسم بھرم رکھے گا کچھ اس طرح چچا کا
ہاے حسن ہاے حسن
جیسے ہی گھر سے نکلا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.