Insan ke liye maut hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Muslim (a.s) recited by Zaki Abedi
انساں کے لئے موت ہے غم بے وطنی کا
جانکاہ ہے اندوہ الم بے وطنی کا
صدمہ نہیں کچھ موت سے کم بے وطنی کا
آفت ہے قیامت ہے ستم بے وطنی کا
کانٹوں کے الم سید سجاد سے پوچھو
ایزاے سفر مسلم ناشاد سے پوچھو
کی سخت دغا کوفیوں نے گھر سے بلا کے
سب پھر گےء جن لوگوں کے دعوے تھے وفا کے
لاکھوں ہے ہیں عدو جاے کدھر جان بچا کے
آفت میں گرفتار ہوے کوفے میں آ کے
یاور نہیں ہم دم نہیں غم خوار نہیں ہے
نرغے میں ہے اور کوئی مددگار نہیں ہے
ہے سنگ دل ایسے وہ جفا کار و ستمگر
کوٹھوں پہ لگانے لگے مظلوم پہ پتھر
نورانی بدن ہو گیا مجروح سراسر
اور سامنے سے منہ پہ لگا ظلم کا خنجر
کیوں گر نہ پڑا ہاے فلک پھٹ کے زمیں پر
لال لب جاں بخش گرے کٹ کے زمیں پر
منہ کرکے سوے چرخ کہا شکر خدایا
راحت ہے یہ بندے نے جو کچھ ظلم اٹھایا
غم یہ ہے کہ ہے دور یداللہ کا جایا
شبیر کے ہاتھوں سے کفن ہم نے نہ پایا
دنیا سے سوے خلد کوئی دم میں سفر ہے
یاں ہم پہ جو کچھ بن گیء کیا ان کو خبر ہے
یہ کہتے تھے مسلم کے لعیوں نے قضارا
اک سنگ ستم اس لب مجروح پہ مارا
ریش اور گریباں میں لہو بھر گیا سارا
جب حال یہ پوچھا تو کہا جنگ کا یارا
اعدا سے کہا دل میں زرا رحم تو جا دو
غش آتا ہے پانی مجھے تھوڑا سا پلا دو
کب سنتے تھے بیکس کا سخن ظلم کے بانی
تھے قتل کی تدبیر میں وہ دشمن جانی
لے آی ضعیفی وہی اک جام میں پانی
قسمت نے مگر بجھنے نہ دی تشنہ دہانی
سوکھی ہوی تھی گل سی زباں خشک گلو تھا
اس پانی کو منہ سے جو لگایا تو لہو تھا
پھینکا اسے جب خاک پہ با دیدۂ گریاں
اک جام ضعیفی نے دیا پھر انہیں اس آں
پینے بھی نہیں پایا کوئی گھونٹ وہ زیشاں
پانی میں اجڑ ہو کے گرے گوہر دنداں
فرمایا کہ ثابت ہوا پیاسے ہی مریں گے
اب ثاقیء کوثر ہمیں سیراب کریں گے
دشمن تو کیء سو تھے یہ بے یار و مددگار
برچی کبھی پڑتی تھی کبھی پڑتی تھی تلوار
اندوہ پہ اندوہ تھے اعزار پہ اعزار
کس آس سے اک ایک کا منہ تکتے تھے ہر بار
بازو کو ستمگر جو باندھے تھے رسن سے
فوارہء خوں چھٹتا تھا ہر زخم بدن سے
القصہ لب بام جو لاے انہیں صفاک
تر آنسوؤں سے ہو گیا مسلم کا رُخ پاک
فریاد سوے کعبہ یہ کی با دل غم ناک
روحی بہ فدک اے پسر سید لولاک
کرتا ہے سفر خلق سے غم خوار تمہارا
موقوف ہے اب حشر پہ دیدار تمہارا
فرما کے یہ گردن طرف قبلہ جھکای
شمشیر جفا کار نے چمکا کے اٹھای
آواز یہ مخدومہء کونین کی آی
مارتا ہے ہراول میرے بچے کا دہای
اس ظلم سے باز آ جو خدا کا تجھے ڈر ہے
ظالم سر مسلم پہ میرا ہاتھ سپر ہے
میرے لیےء کم حشر کے دن سے یہ نہیں کم
تربت سے میں نکلی ہوں لیےء لاشہء محسن
مظلوم کو تو قتل کرتا ہے وہ لیکن
بن باپ کے ہو جاےنگے بچے کیء کم سن
خوں سر پہ نہ لے چھوڑ دے آوارہ وطن کو
کر بیوہ نہ عباس دلاور کی بہن کو
زہرا نے کیء بار تڑپ کر یہ پکارا
کیا دل تھا کہ مقتل نہ ڈرا وہ ستم آرا
ظالم نے کیء ضرب میں سر تن سے اتارا
پھٹتا ہے جگر اب نہیں گویای کا یارا
لکھا ہے چلا لیکے جو قاتل سر مسلم
کوٹھے کے تلے پھینک دیا پیکر مسلم
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.