Utha nahi jaata
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Raza Abbas Zaidi
جس دم حسین زین سے آئے زمین پر
آنکھوں میں خاک اور بدن تھا لہو میں تر
جب سر اُٹھاکے دیکھا تو دھندلا گئی نظر
دیکھا کوئی ضعیفہ چلی آتی ہے اِدھر
اماں کی خوشبو آئی تو اُٹھنے لگے حسین
تعظیم جب نہ ہوسکی کہنے لگے حسین
اماں اماں
زخم اتنے ہیں کہ اُٹھا نہیں جاتا اماں
ملکے نو لاکھ نے اتنا مجھے مارا اماں
اِس سے پہلے کہ میری بیٹی یہ دیکھے آکر
شمر سے کہدو اُتر جائے میرے سینے سے
دیکھو سوتی ہے یہاں میری سکینہ اماں
زخم اتنے ہیں کہ۔۔۔
ہائے پردیس میں یہ وقت ہے کیسا ہم پر
دیکھو تم پانی پلاتی تھی جسے اُٹھ اُٹھ کر
آج آغوش میں مرجائیگا پیاسہ اماں
زخم اتنے ہیں کہ۔۔۔
میں نےدیکھا ہے اُسےچہرے کہ بل گرتے ہوئے
کٹ چکے ہاتھ مرا بھائی اُٹھے گا کیسے
دے کے آواز اُسے تم نہ بلانا اماں
زخم اتنے ہیں کہ۔۔۔
گُرز تلوار و تبر نیزہ و بھالا مارا
جسکو کچھ بھی نہ ملا اُس نے طمانچہ مارا
مجھ پہ برسادیا جو ہاتھ میں آیا اماں
زخم اتنے ہیں کہ۔۔۔
اُسنے دیکھا ہے ابھی صرف مرا زخمی بدن
لڑکھڑاتے ہوئے گرتی ہے سمبھلتی ہے بہن
کیسے دیکھے گی بہن بھائی کا مرنا اماں
زخم اتنے ہیں کہ۔۔۔
ہائے شبیر نے یہ ماں سے کہا رو روکر
چلنے والا ہے میری سوکھی رگوں پر خنجر
میری گردن پہ ابھی ہاتھ نہ رکھنا اماں
زخم اتنے ہیں کہ۔۔۔
کتنے ارمان مرے دل میں ہی دم توڑگئے
دیکھو تنہا علی اکبر بھی ہمیں چھوڑگئے
چھد گیا برچھی سے اکبر کا کلیجہ اماں
زخم اتنے ہیں کہ۔۔۔
آخری وار ہوا کٹ گیا شبیر کا سر
ماں تڑپتی رہی ذیشان و رضا رو رو کر
گونجتا رہ گیا مقتل میں یہ نوحہ اماں
زخم اتنے ہیں کہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.