Ran may jab sheh ki
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Hurr (a.s) recited by Sarfaraz Hussain Khan
رن میں جب شہ کی طرف سے حر دیندار آیا
کس بشاحت سے اڑاتا ہوا رہوار آیا
غل ہوا سید مظلوم کا غم خوار آیا
جاں نثار خلف حیدر کرّار آیا
تخت نور سر راہ نظر آتا ہے
جلوۂ قدرت اللّٰہ نظر آتا ہے
یہ سخن سن کے پکارا پسر سعد شریر
ہاں طرفدار شہ دیں پہ چلے نیزہء تیر
لے کے حربوں کو بڑھا فوج کا انبوہ کثیر
فاتحہ پڑھ کے جواں مرد نے کھینچی شمشیر
حر کا منہ سرخ ہوا فوج ستم زرد ہوی
شعلہء تیغ سے بجلی کی چمک گرد ہوی
بڑھکے فرماتے تھے عباس زہ عزت و جاہ
بارک اللّٰہ کی دیتا تھا صدا دلبر شاہ
کہتے تھے ابنِ حسن واہ حر غازی واہ
شاہ ہر ضرب پہ فرماتے تھے ماشاءاللہ
اپنی جاں بازی کا غازی جو صلہ پاتا تھا
مسکراتا ہوا تسلیم کو جھک جاتا تھا
حیف جھکنے میں لعینوں نے جو فرست پای
سامنا چھوڑ کے سب فوج عقب سے آی
لاکھ خون ریز ادھر اور ادھر تنہائی
باگ گھوڑے کی پھراتا تھا کہ برچھی کھای
آ گیا موت کے پنجے میں نہ کچھ دیر لگی
فرق پر گرز لگا دوش پہ شمشیر لگی
سینہ غربال ہوا تیر چلے اعدا کے
رکھ دیا شیر نے خربوز پہ سر نیوڑا کے
علی اکبر نے یہ حضرت سے کہا چلا کے
گر ہو ارشاد تو مہماں کو بچاؤں جا کے
خادم حضرت زہراء و علی گرتا ہے
خاک پر اب وہ سعید ازلی گرتا ہے
شاہ رونے لگے یہ سنتے ہی مہماں کی خبر
ہو گیء آنسوؤں سے ریش مبارک سب تر
علی اکبر سے کہا تم ابھی ٹہرو دلبر
حر کی امداد کو ہم جاےنگے اے نورِ نظر
کس سے اس وقت کہوں میں جو قلق مجھ پر ہے
لاش اٹھاؤں گا کہ مہمان کا حق مجھ پر ہے
یہ سخن کہکے چلے رن کو جنابِ شبیر
واں گرا خاک پہ گھوڑے سے حر با توقیر
دیکھ کر شاہ کو آتے ہوے باغ بے پیر
پہنچا لاشہ پہ امام دو جہاں وقتِ اخیر
چمن ہستیء مہماں کو اجڑتے دیکھا
خاک پر ایڑیاں زخمی کو رگڑتے دیکھا
گر کے لاشہ کے برابر یہ پکارے سرور
میرے مہمان و مددگار و معین و یاور
گرز کیا تجھکو لگا ٹوٹ گیء میری کمر
گر پڑے گھوڑے سے اور آہ نہ کی ہم کو خبر
دوست کے ہجر میں کب دوست کو چین آیا ہے
کھول دے چشم کو بھای کہ حسین آیا ہے
نیم واہ چشم سے حر نے رخ مولا دیکھا
زیر سر زانوئے شبیر کا تکیہ دیکھا
مسکرا کر طرف عالمِ بالا دیکھا
شہ نے فرمایا کہ اے حر جری کیا دیکھا
عرض کی حسن رخ حور نظر آتا ہے
فرش سے عرش تلک نور نظر آتا ہے
مجھکو لینے چلے آتے ہیں فرشتے یا شاہ
ملک الموت بھی کرتا ہے محبت کی نگاہ
خلد سے شیر خدا نکلے ہیں اللّٰہ اللّٰہ
لو برا آمد ہوے شبیر بھی پدر کے ہمراہ
ننگے سر احمد مختار کی پیاری آی
دیکھیےء آپ کے نانا کی سواری آی
کہکے یہ گود میں شبیر کے لی انگڑائی
آیا ماتھے پہ عرق چہرے پہ زردی چھای
شہ نے فرمایا ہمیں چھوڑ چلے کیوں بھای
چل بسے حر جری پھر نہ کچھ آواز آی
طایر روح نے پرواز کی طوبیٰ کی طرف
پتلیاں رہ گیء پھر کر شہ والا کی طرف
روکے اکبر نے کہا حر دلاور ہاے ہاے
اے مددگار جگر بند پیمبر ہاے ہاے
خوں میں سب تر ہے تیرا روح منور ہاے ہاے
تشنہ و بیکس و مظلوم کے یاور ہاے ہاے
ادھر آنا تھا کہ تیری اجل آی بھای
گھر میں سادات کے دعوت بھی نہ کھای بھای
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.