Unees sau hai zakhm
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Farhan Ali Waris
گر کر کبھی اٹھے کبھی رکھا زمیں پہ سر
ابلا لہو کبھی تو سنبھالا کبھی جگر
حسرت سے کی خیام کی جانب کبھی نظر
کروٹ کبھی تڑپ کے ادھر لی کبھی ادھر
اٹھ بیٹھے جب تو زخموں سے برچی کے بل گرے
تیر اور تن میں گاد گئے جب مو کے بل گرے
جنگل سے آی فاطمہ زہرا کی یہ صدا
امت نے مجھکو لوٹ لیا وا محمدا
اس وقت کون حق رفاقت کرے ادا
زینب سے بولی فاطمہ زہرا بصد بکا
انیس سو ہیں زخم تن پاش پاش پر
زینب نکل حسین تڑپتا ہے خاک پر
کس چاہ سے پالا اسے آنچل میں چھپا کر
میں جاگتی رہتی اسے راتوں کو سلا کر
چکی بھی جو پیسی ہے تو گودی میں بٹھا کر
کس حال میں دیکھا ہے اسے دشت میں آکر
انیس سو ہیں زخم۔۔۔
زینب نکل حسین۔۔۔
ہے کون جو مظلوم کو تیروں سے بچاے
سہہ روز کے پیاسے کو کوئی پانی پلاے
زخموں میں بھری خاک کوی آکے چھڑاے
ہر لاش اٹھای ہے اسے کون اٹھاے
انیس سو ہیں زخم۔۔۔
زینب نکل حسین۔۔۔
عباس کے مرنے سے کمر ٹوٹ چکی ہے
اکبر کے بچھڑ جانے سے بینای گیء ہے
ان آنکھوں میں بے شیر کی تربت بھی بنی ہے
ہے آخری لمحہ اور اجل سر پہ کھڑی ہے
انیس سو ہیں زخم۔۔۔
زینب نکل حسین۔۔۔
کچھ دیر میں خنجر میرے بچے پہ چلے گا
آفسوس دم ذبح بھی پانی نہ ملے گا
خنجر کی کیء ضربوں سے سر اس کا کٹے گا
غیور ہے بیٹا میرا ہر گز نہ کہے گا
انیس سو ہیں زخم۔۔۔
زینب نکل حسین۔۔۔
باقی ہے ابھی جان تیرا بھائی ہے زندہ
گھوڑے کہیں دوڑا نہ دے بے درد ہیں اعدا
ہاے ہاے کوئی بے کس کو نہیں پوچھنے والا
بھائی سے محبت ہے تو مقتل میں چلی آ
انیس سو ہیں زخم۔۔۔
زینب نکل حسین۔۔۔
یہ بین میں سنتی ہوں تیرے بابا علی سے
ہو جاے نگے پامال ابھی لاش سبھی کے
کچھ مرحلے باقی ہیں غریب الوطنی کے
جا حال زرا دیکھ لے اس پیاسے اخی کے
انیس سو ہیں زخم۔۔۔
زینب نکل حسین۔۔۔
عاجز ہے یہاں آکے ہر ایک سخنور
فرحان انیس شہ والا ہو کہ مظہر
لکھ پایا نہیں آج تلک کوئی وہ منظر
جب کہتی تھی زینب سے میرے بی بی تڑپ کر
انیس سو ہیں زخم۔۔۔
زینب نکل حسین۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.