Tu layazl o lamyazl
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Anj. Hyderi Ali Basti
تو لایازال و لمیازل ہے عادل و قدیم ہے
صغیر ہے خبیر ہے حسیب ہے کریم ہے
جلیل ہے نبیل ہے قریب ہے علیم ہے
خدائے ذولجلال تیرا اعتبار ہے حسین
زمین پر ضمیر و ظرف کی پکار ہے حسین
یا خدا یا حسین یا خدا یا حسین
میرے خدا تیرا نبی حبیب و صادق و امین
بساط کائنات پر وہ تاجدار مرسلین
وہی ہے نور اولی وہی ہے عقل اولی
اسی رسول حق کے دین کا حصار ہے حسین
سجی ہے جس سے بزم کون وہ زر نگار ہے حسین
یا رسول یا حسین یا رسول یا حسین
حبیب کردیگار کا شریک کار مرتظی
کہ جس کی نسل میں چلا ہدایتوں کا سلسلہ
کوئی اسے ولی کہے کوئی اسے کہے خدا
اسی علی کی بے نیام ذوالفقار ہے حسین
جو موت پر جھپٹ پڑے وہ شہسوار ہے حسین
یا علی یا حسین یا علی یا حسین
علی کے گھر کی زیب و زین غم گسار فاطمہ
وہ شامی موباہیلا اور مرکز کسا
فراق پہ اپنے حق کو جس نے بے جھجک طلب کیا
اسی بتول کا سکون ہے قرار ہے حسین
اسی کی تربیت کا ایک شاہکار ہے حسین
یا بتول یا حسین یا بتول یا حسین
وہ سیدہ کی پرورش کا ایک آئینہ حسن
علی شیر مصطفی مزاج تیرگی شکن
کجا امیر شام اور کجا امام کم سخن
اسی حسن کے صبر و زبط کا نکھار ہے حسین
شدید حبس میں ہوائے خوشگوار ہے حسین
یا حسین یا حسین یا حسین یا حسین
حسن ایک ساتھ آئے حسین تو بھی سید عرب
فضیلتوں کے باب میں ہے تو بھی ہاشمی لقب
حسین سب سے معتبر تیری شجرہ نسب
صدف میں جو بھی ہے گوہر وہ آبدار ہے حسین
کہ تیرا کہاں وعدہ سب سے شاندار ہے حسین
یا حسین یا حسین یا حسین یا حسین
حسین کل پیامبروں کی محنتوں کا نام ہے ہے
حسین سے اذان ہے سجود ہے قیام ہے
حسین تجھ پہ حشر تک درود ہے سلام ہے
نظام دہر کا تجھی پہ انحصار ہے حسین
مشئیت خدا کا تجھ کو اختیار ہے حسین
یا حسین یا حسین یا حسین یا حسین
حسین تیری ٹھوکروں میں مسند یزید ہے
حسین تیرے غم میں جس نے جان دی شہید ہے
حسین تیرا منحرف لعین ہے پلید ہے
جہاں میں نسل شیمر اب بھی برقرار ہے حسین
کہ جس کو تیری تذکرہ بھی ناگوار ہے حسین
یا حسین یا حسین یا حسین یا حسین
چلی جو تیری تیغ کفر منہ چھپا کے رہ گیا
یوم فرات میں ملوکیت کا قصر بہہ گیا
ضمیر مفتیاں دین فروش بھی یہ کہہ گیا
پیامبرانہ عظمتوں کا ورثہ دار ہے حسین
بنائے لا الا دین کردیگار ہے حسین
یا حسین یا حسین یا حسین یا حسین
سبیل تازیے علم جلوس ماتم عزا
مجال ہے جو رک سکے یہ مجلسوں کا سلسلہ
سبب اس اہتمام کا فقط دعا سیدہ
ہر ایک بارگاہ تیری یادگار ہے حسین
زمین پر ہر دیار اب تیرا دیار ہے حسین
یا حسین یا حسین یا حسین یا حسین
یزیدیت کو روند کر بسائی تو نے کربلا
لہو کی بوند بوند پر بنائی تو نے کربلا
متائے تشنگی لئے سجائی تو نے کربلا
ہر ایک ذہن حر پہ تیری اقتدار ہے حسین
قدم قدم پہ صبر تیرا آشکار ہے حسین
یا حسین یا حسین یا حسین یا حسین
صبیح مصطفی کے قلب میں سنہ اتر گئی
کٹے جو بازوئے جاری تو آلقامہ بھی رو پڑی
چلا جو نواک ستم تو زندگی لرز اٹھی
تیرے لبوں پہ پھر بھی شکر کردیگار ہے حسین
بریدہ سر بلند ہو کہ باوقار ہے حسین
یا حسین یا حسین یا حسین یا حسین
تیرے قیام جل گئے نبی کا گھر اجڑ گیا
جلا کسی کا پیرہن کسی کی چھن گئی ردا
مسافرت کے دشت میں لٹا ہوا وہ قافلہ
کسی یتیم کو چاچا کا انتظار ہے حسین
وہ کون ہے جو قافلے کا ذمہ دار ہے حسین
یا حسین یا حسین یا حسین یا حسین
وہ کربلا سے شام جا رہا ہے کوئی کارواں
وہ گیسوئوں سے منہ چھپائے تشنہ کم بیبیاں
گلے میں طوق خاردار اور امام آنسو جاں
کہ تیرے لخت دل پہ ایک یہ بھی بار ہے حسین
نہ کوئی دوست ہے نہ کوئی غم گسار ہے حسین
یا حسین یا حسین یا حسین یا حسین
صعوبتیں گزر گئیں مصیبتیں گزر گئیں
بیاں نہ ہو سکے کبھی جو آفاتیں گزر گئیں
نبی کے اہل بیعت پر قیامتیں گزر گئیں
انی سبب یہ کائنات سوگوار ہے حسین
یہی نوائے شاہد جگر فگار ہے حسین
یا حسین یا حسین یا حسین یا حسین
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.