Bakhi jo rafiqe shahe
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Habeeb (a.s) recited by Zeeshan Taqvi
باقی جو رفیق شاہ دین رہ گےء دو چار
حسرت سے انہیں دیکھتے تھے سید ابرار
کی بڑھ کے حبیب ابنِ مظاہر نے یہ گفتار
یہ پیر غلام اب ہے اجازت کا طلبگار
بند کو بھی مرنے کی رضا دیجئے آقا
فردوس کے رستے پہ لگا دیجئے آقا
شبیر نے سینے سے لگایا ہے کیء بار
رخصت جو کیا آنکھوں سے آنسوں ہوے جاری
گھبرا کے در خیمہ سے زینب یہ پکاری
لوگوں کہو میداں میں چلی کس کی سواری
کون بچائے گا شہ جن و بشر کو
سب چھوڑے چلے جاتے ہیں زہرا کے پسر کو
یہ سنتے ہی کہرام ہوا اہلِ حرم میں
پہنچا وہ جری شیر سا میدان ستم میں
کامل تھا زبس عشق شہنشاہِ امم میں
بیتاب تھا مولا کی جدائی کے الم میں
سینہ تھا جری کا تبر و تیر کی جانب
پھر پھر کے نظر کرتا تھا شبیر کی جانب
پیری میں جو دکھلای جوانوں کی شجاعت
تھرانے لگے عضو بدن گھٹ گیء طاقت
دم چڑھ گیا گرمی سے ہوی پیاس کی شدت
دل سے کہا اب عالم فانی سے ہے رخصت
نہ لشکر اعدا کو نہ شمشیر کو دیکھا
کس یاس سے مڑ کر رخ شبیر کو دیکھا
پھرنا تھا کہ بس پڑھنے لگی تیروں کی بوچھار
دیکھا جو ادھر پشت پہ نیزے کا لگا وار
چاہا اسے مارے کہ لگی فرق پہ تلوار
اور ظلم کی برچی بھی کلیجے کے ہوی پار
کہتے تھے تن و جان شہ دلگیر کے صدقے
ہر زخم پہ نعرہ تھا کہ شبیر کے صدقے
چھاتی بھی چھنی تیروں سے اور فرق دو پارہ
رگ رگ جو کٹی پھر نہ رہا ضبط کا یارا
شیرازہء اجزاے بدن کھل گیا سارا
گرتے ہوے گھوڑے سے یہ آقا کو پکارا
یاں آپکا آنا میری بخشش کی سند ہے
اے شیر الہی کے پسر وقت مدد ہے
ناگاہ صفیں چیر کے آے شہ زیشاں
دیکھا کے وہ مظلوم کوئی دم کا ہے میہماں
لاشہ سے لپٹ کر یہ پکارے بصد افگار
اے دوست میرے تیری محبت کے میں قرباں
دکھلا دو مجھے زخم کہاں کھاے ہیں بھای
سینے سے لپٹ جاؤ کہ ہم آتے ہیں بھای
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.