Rawana nehre laban
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Asghar (a.s) recited by Mir Momin Ali Qaisar
روانہ نہر لباں کو جو شیر خوار ہوا
زباں دکھانے پہ گردن سے تیر پار ہوا
تڑپ کے ہاتھوں پہ حضرت کے ہمکنار ہوا
خزاں ہوا جو وہ گل تو گلے کا ہار ہوا
ادھر تو شہ کو یہ صدمہء جگر پہنچا
ادھر مدینے سے صغرا کا نامہ بر پہنچا
لہو میں غرق کھڑے تھے کمر جھکائے ہوے
پسر کی ننھی سی میت گلے لگائے ہوے
لہو بھرا ہوا دامن اسے اڑھاے ہوے
کفن کی فکر میں خیمے کو منہ پھراے ہوے
یہ حال دیکھ کے قاصد کی آس ٹوٹ گیء
ہوا یہ راشہ کہ فوراً مہار چھوٹ گیء
اتر کے ناقے سے آداب وہ بجا لایا
مگر حسین تھے بیہوش کچھ نہ فرمایا
وہ نوحہ پڑھتا ہوا اور متصل آیا
نگاہ یاس سے منہ دیکھ کر یہ چلایا
قرار دو مجھے بے قرار ہوتا ہوں
حسین جان کے تم پر نثار ہوتا ہوں
کہو بقیہء اولاد مرتضیٰ ہو تم
امیر لشکر اللّٰہ و مصطفیٰ ہو تم
غریب کوفہ و مظلوم کربلا ہو تم
بتاؤ قاسم ناشاد کے چچا ہو تم
جواب دو پسر نمودار اکبر ہو
جنابِ حضرتِ عبّاس کے برادر ہو
بہن ہے آپ کی زینب سکینہ دختر ہے
ہر احوال آپ کے لشکر کا حر صفدر ہے
وطن میں بھی کوی بیٹی علیل و ششدر ہے
حضور کا کوی ننھا سا لال اصغر ہے
زوہیر اور حبیب آپ کے مصاحب ہے
جناب عون و محمد کے مامو صاحب ہے
حسین بھر کے دم سرد بولے اے غم خوار
امیر کون ہے میں تو ہوں بیکس و ناچار
کہاں ہے اکبر و قاسم کہاں علمبردار
خدا کے بندے تھے یہ سب ہوے خدا پہ نثار
سپاہ ظلم نے تنہا سمجھ کے گھیرا ہے
ہزاروں تیغیں ہیں اور ایک حلق میرا ہے
ہٹای چہرے سے اصغر کے خوں بھری چادر
پسینہ موت کا ماتھے سے پونچا سر تا سر
پکارے لاشے کی آنکھوں پہ ہونٹوں کو رکھ کر
لکھی ہے فاطمہ نے دیدہ بوسیء اصغر
گواہ رہیو کہ فاقے سے جھومتا ہے حسین
اور انکے بھای کی آنکھوں کی آنکھوں کو چومتا ہے حسین
بنا لوں ننھی سی قبر انکی اے خجستہ سیر
تو لے چلوں پسر نوجواں کے لاشے پر
تو پڑھیو لاشہء اکبر پہ نامۂ خواہر
یہ کہہ کے گھوڑے سے اترے امام جن و بشر
زمین قبر کی خاطر پسند کرنے لگے
مزار کھود کے نالے بلند کرنے لگے
لہو سے غسل تو اصغر کو دے چکی تھی قضا
ملی بہ صورتِ کافور شہ نے خاک شفا
اتارا قبر میں اصغر کا خوں بھرا لاشہ
لٹا کے خاک پہ قبلے کی سمت منہ پھیرا
پھر اپنے چاند کو جب خاک میں چھپانے لگے
تو یا علی کہا اور ہاتھ تھر تھرانے لگے
یہ حال دیکھ کے قاصد نے کی مددگاری
لحد میں انگلیوں سے خاک ڈالی اک باری
پکاری خیمے کے در سے یہ بانو دکھیاری
یہ کس کی قبر کی ہوتی ہے رن میں تیاری
حسین بولے کے صدمے نےء گزرتے ہیں
تمہارے ہنسلیوں والے کو دفن کرتے ہے
گری زمیں پہ کلیجہ پکڑ کے وہ ناچار
پکاری میری کمای ہے اے زمین ہوشیار
نہ مردہ جانیو ہے میری جان یہ دلدار
زمین میں تیرے صدقے تیرے مکیں کے نثار
یہ زیر خواب میری منتوں کا باغ ملا
مجھے یہ پھول ملا اور دل کو داغ ملا
بلاییں دور سے لے لے کے پھر کیا یہ بیاں
تمہاری ننھی لحد کے میں واری اصغر جاں
اندھیرا گھر ہے نہ گھبراییو یہ ماں قرباں
اکیلے سونے کی مشکل خدا کرے آسان
تمہارے چاہنے والے گلے لگاییں گے
مجھے یقیں ہے جنابِ امیر آیینگے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.