Pidar ki maut hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Alamdar Razvi
پدر کی موت ہے مرنا جوان بیٹے کا
سفر جہان سے کرنا جوان بیٹے کا
غضب ہے خون میں بھرنا جوان بیٹے کا
ستم ہے جی سے گزرنا جوان بیٹے کا
شباب تھا کہ شہ مشرقین سے چھوٹے
محبوں پیٹو کہ اکبر حسین سے چھوٹے
خدا پدر کو نہ دکھلاے مرگ راحت جاں
کلیجہ زخمی ہو جب دل کو پھر قرار کہاں
ادھر تو سینۂ اکبر سے گزری نوکِ سناں
لہو ادھر چشم امام دیں سے رواں
تڑپ کے جانب گردوں نگاہ کی شہ نے
زمین ہل گیء اک ایسی آہ کی شہ نے
پکارتے ہوئے دوڑے میرے شہید پسر
میرے جواں میرے مہرو میرے سعید پسر
میرے حسیں میرے یوسف میرے رشید پسر
قریب ہو کہیں میداں سے یا بعید پسر
پدر پہ آج نیء واردات ہے بیٹا
خبر نہیں مجھے دن ہے کہ رات ہے بیٹا
کدھر گئے میرے گل پیرہن علی اکبر
میرے قلیق میرے کم سخن علی اکبر
جوانا مرگ غریب الوطن علی اکبر
اجاڑ کر گےء میرا چمن علی اکبر
بلا کے گھر سے یہاں اشقیاء نے لوٹ لیا
دہائی ہے کہ مجھے کربلا نے لوٹ لیا
پکارتے تھے کہ اے شیر پھر پکار مجھے
نہیں بتانے کہ لاشہ یہ نابکار مجھے
تیرے فراق میں ہے زیست نہ گوار مجھے
صدا سنا دے میں صدقے پھر ایک بار مجھے
گلے لگا لو کہ سینہ ہمارا جلتا ہے
کلیجہ منہ سے کوئی دم میں اب نکلتا ہے
پکاری ڈیوڑھی سے بانو پسر ملا کہ نہیں
بتاؤ مرحم زخم جگر ملا کہ نہیں
ستم کے ابر میں میرا قمر ملا کہ نہیں
علی کے لال وہ عالی گُہر ملا کہ نہیں
شتاب لاؤ میرے منتوں کے پالے کو
تمہیں سے لونگی میں اپنے مرادوں والے کو
یہ ذکر تھا کہ صدا آئی دور سے ناگاہ
جنابِ قبلہ و کعبہ اب آیےء للہ
حضور حال سے بیٹے کے کیا نہیں آگاہ
زبان آینٹھ گیء ہے غلام کی یا شاہ
اکھڑ رہا ہے دم اب موت جان لیتی ہے
پکارنے کی بھی طاقت جواب دیتی ہے
صدا یہ سنتے ہی سلطان بحروبر دوڑے
یہ درد دل تھا کہ تھامے ہوئے جگر دوڑے
کبھی تو فوج پہ مانند شیر نر دوڑے
کبھی ادھر گےء روتے کبھی ادھر دوڑے
لٹی ہوئی وہ کمایء بصد تلاش ملی
زمیں پہ خون میں غلطاں پسر کی لاش ملی
عجیب حالت فرزند نو جواں دیکھی
عطش سے ہونٹوں پہ نکلی ہوئی زباں دیکھی
قمر سے چہرے زردی لبوں پہ جاں دیکھی
کلیجہ پھٹ گیا سینے میں جب سناں دیکھی
پدر کے سامنے بیٹے کا دم اکھڑتا تھا
حسین دیکھتے تھے اور گھر اجڑتا تھا
قریب لاشے پسر بیٹھ کے یہ فرماےء
زمین گرم سے بیٹا اٹھو کہ ہم آے
صدا یہ سنتے ہی اکبر نے ہاتھ پھیلائے
لپٹ کے لاش سے شہ لب پہ یہ سخن آے
گلے لگا لو کہ محمد کا میں نواسہ ہوں
زباں دکھا کے کہا یا حسین پیاسا ہوں
یہ کہکے شاہ سے کھینچی غریب نے اک آہ
جگر میں ہونے لگا درد آہ کہ ہمراہ
عجیب یاس کی نظروں سے دیکھ کر رخ شاہ
کہا کہ اشہدو اللہ الہ الااللہ
بس اور کہنا سکے کچھ یہ حال غیر ہوا
سوےء بہشت گےء خاتمہ بخیر ہوا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.