Ran se jab khaake
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Himayath Ali Taha
رن سے جب خاک سناں اکبر زیشان آے
ماں کی خدمت میں کوئی آن کے مہماں آے
گھر میں لاشہ کو لیےء شاہ شہیداں آے
نوحہ گر خاک بسر چاک گریباں آے
دی صدا قتل ہوے یوسف ثانی بانو
مل گیء خاک میں اکبر کی جوانی بانو
دیکھلے آخری دیدار پسر مرتا ہے
سامنے آنکھوں کے یہ نورِ نظر مرتا ہے
اب کوئی دم میں میرا رشک قمر مرتا ہے
منہ سے باہر ہے زباں تشنہ جگر مرتا ہے
دم ہے سینے میں رکا زخموں سے خوں جاری ہے
شہر بانو تیرا گھر لٹنے کی تیاری ہے
پہنچی خیمے میں جو حضرت کی یہ پر درد صدا
مضطرب ہو گےء ناموس رسولِ دو سرا
کہا چلا کے سکینہ نے کہ ہاے ہاے بھیا
فضہ دوڑی سوے در پھینک کے سر پر سے ردا
پیٹتی زینب مضطر نکل آی باہر
بانو گھبرا کے کھلے سر نکل آئ باہر
شہ کے کاندھے پہ جو دیکھا علی اکبر کو نڈھال
ہاتھ پھیلا کے یہ چلای کہ ہاے ہاے میرے لال
کیا غضب ہو گیا اے بادشاہ نیک خصال
راس آیا نہ میرے بچے کو اٹھارہواں سال
ٹکڑے تیغوں سے بدن ہوگیا سارا ہاے ہاے
کون تھا جس نے میرے شیر کو مارا ہاے ہاے
روکے بانو سے یہ فرمانے لگے سرور دیں
سر نہ پیٹو ابھی زندہ ہے میرا ماہ جبیں
سانس آتی ہے پہ ہر دم ہے دم بعد پسیں
کوچ ان کا بھی ہے اور ہم بھی ہیں مرنے کے قریں
سب چھٹے اب نہ رہا کوئی ہمارا بانو
اس جواں بیٹے کے غم نے ہمیں مارا بانو
سن کے مادر کی صدا کھول دیےء دیدۂ نم
ہاتھ اٹھا کر کہا رووء نہ میرے سر کی قسم
پاس آکر ہمیں چھاتی سے لگا لو اس دم
رن سے آے ہیں تمہاری ہی ملاقات کو ہم
پھر یہ گھر شاہ کے اقبال سے دیکھا ہم نے
پر تمہیں آکے عجب حال سے دیکھا ہم نے
بال کیوں بکھرے ہیں کیوں پھینک دی سر پر سے ردا
نیل کیوں سینے پہ ہے کیوں ہے گریبان پھٹا
خاک کیوں منہ پہ ملی ہو یہ پسر تم پہ فدا
شاہ دنیا میں سلامت رہے یہ کیا یہ کیا
لٹ گیء یہ نہ سخن منہ سے نکالو اماں
میں تو جیتا ہوں کلیجے کو سنبھالو اماں
زخمی ہونے کی میرے کس نے خبر پہچای
جھوٹ ہے میں نے تو ہرگز نہیں برچی کھای
آپ تک بیٹے کو تقدیر سلامت لای
دیکھ کے حضرت کے قدم تن میں میری جان آی
مرگ سے پہلے ہو ماتم یہ زبوں ہے اماں
میرے کپڑوں پہ تو عباس کا خوں ہے اماں
بولی بانو کہ جو کہتے ہو خدا یوں ہی کرے
اے میرے لال یہ ماں تیری بلا لے کے مرے
لاؤ دھو ڈالوں میں جو خون میں کپڑے ہیں بھرے
چاند سے ہاتھ ہیں پھر کس لےء چھاتی پہ دھرے
مجھکو معلوم ہوا خلق سے جاتے ہو تم
میرے رونے کے لئے زخم چھپاتے ہو تم
بانو صدمے سے نہ مر جاۓ یہ ڈر ہے بیٹا
سب تیرے دل کی میرے دل کو خبر ہے بیٹا
ہاے سینہ یہ تیرا خون میں تر ہے بیٹا
پھر یہ کیا ہے جو نہیں زخم جگر ہے بیٹا
سنسناتا ہے جگر جان چلی جاتی ہے
اس لہو سے تو میرے دودھ کی بو آتی ہے
آرزو ہے کہ پھلے پھولے میرا نقل مراد
تم دلہن بیاہ کے لاؤ میرا گھر ہو آباد
دکھلوں آنکھوں سے اپنی میں تمہاری اولاد
پھر میں دنیا سے جو گزروں تو رہے روح بھی شاد
دادی کہلاؤں گی رتبہ میرا برتر ہوگا
تیرا فرزند بھی ہمشکل پیمبر ہو گا
آہ کی سن کے یہ اکبر نے بصد رنج و ملال
درد چھاتی میں اٹھا غیر ہوا اور بھی حال
دل میں یہ سونچ کے رونے لگا وہ نیک خصال
ہم سفر کرتے ہیں اماں کو ہے شادی کا خیال
بر میں ہوے گا کفن خاک پہ چہرہ ہوگا
نہ دلہن ہوگی نہ اولاد نہ سہرا ہوگا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.