Jab sadre zeen se gir
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Alamdar Hussain
جب صدرِ زیں سے گر پڑے عباس باوفا
جنگل سے آی گریہء زہرا کی بھی صدا
اکبر نے دوڑ کر شہ والا سے یہ کہا
چلےء حضور نہر پہ مارے گئے چچا
بے دست دشمنوں نے کیا اس دلیر کو
رو آیےء ترای میں حیدر کے شیر کو
یہ سن کے پیٹتے ہوئے اٹھے زمیں سے شاہ
فرمایا ہے غضب میرے بچے ہوئے تباہ
یہ کیا کہا کہ آنکھوں میں دن ہوگیا سیاہ
مظلوم سے بچھڑ گئے عباس آہ آہ
مدت ہوئی تمام سکینہ کے چین کی
توڑا فلک نے آج کمر کو حسین کی
یہ کہکے سوے نہر چلے شاہ کربلا
مانند بید کانپتے تھے شہ کے دست و پا
عمامہ تھا نہ فرق پہ نے دوش پر ردا
تصویر وار تھے ہمہ تن سبط مصطفیٰ
مقتل کی خاک سے تن انور اٹا ہوا
سینہ کھلا ہوا تھا گریباں پھٹا ہوا
پہنچے جونہی ترای میں بہ دیدہء پرآب
دیکھا ہے تپاں ہے خاک پہ فرزند بوتراب
شانوں پہ کی نظر تو جگر کو رہی نہ تاب
بس ہاے بھائی کہہ کے گرا وہ فلک جناب
بیکار دست و پا تھے شہ خوشخصال کے
لے آے لاش تک علی اکبر سنبھال کے
منہ رکھکے خوں بھرے ہوئے چہرے پہ دی صدا
بھیا حسین آیا ہے آواز دو زرا
ہے۔ ہاتھ دونوں ہاتھ بدن سے ہوے جدا
بازو کے صدقے ان تیرے شانوں کے میں فدا
بھیا ہمارے ہاتھ تو بیکار ہو گےء
تم ہاتھ کھوکے جعفر طیار ہوگےء
منہ رکھکے منہ پہ کہنے لگے شاہ خوشخصال
عباس میں کن آنکھوں سے دیکھوں تیرا یہ حال
اس دم بھی ہے تمہیں میرے آداب کا خیال
جب ذبح ہونگے ہم تو کسے ہویگا ملال
صدقے حسین تیرے تن پاش پاش کے
اک بار ہم کو گرد تو پھرنے دو لاش کے
سن کر صدا یہ حضرت شبیر نامدار
کھولا لہو بھری ہوئی آنکھوں کو ایک بار
سر رکھکے پاے شاہ پہ بولا وہ ذی وقار
تشریف آپ لاءیں زح اذو افتخار
جی چاہتا ہے یہ کہ نصار حضور ہوں
کس طرح اٹھ کے گرد پھروں چور چور ہوں
بیٹھے ہیں آپ اور میں لیٹا ہوں آہ آہ
کیا دور ہے حضور اگر بخش دیں گناہ
سر شق ہے ضرب گرز سے یا شاہ دیں پناہ
کروٹ بھی اب تو لے نہیں سکتا ہے خیرخواہ
دکھتے ہیں بولنے میں جراہت پھٹے ہوئے
دیکھیں حضور میرے ہیں بازو کٹے ہوئے
یہ سن کے اس دلیر نے اک سرد آہ کی
مشکیزے پہ تڑپ کے با حسرت نگاہ کی
منہ شرم سے جھکا لیا گودی میں شاہ کی
حالت تباہ ہوگئی حیدر کے ماہ کی
جب دل کو بیکلی ہو تو کس طرح کل پڑے
زانوں پہ شہ کے آنکھوں سے آنسوں نکل پڑے
فرمایا شہ نے کس لئے روتے ہو زار زار
لو اب کچھ اپنا حال کہو تم پہ میں نثار
کیا جی پہ ہے بنی جو تڑپتے ہو بار بار
کی عرض اس جری نے کہ ہے وقت احتضار
آقا سے چھوٹنے کا خلل ہے غلام کو
پاؤں اب کہاں شہ گردوں مقام کو
یہ کہتے تھے کہ پھر گیء آنکھوں کی پتلیاں
ہچکی کے ساتھ آگیء سوکھے لبوں پہ جاں
حسرت سے دیکھ کر طرف شاہ انس و جاں
دنیا سے کوچ کر گئے عباس نوجواں
چھوڑا جری نے ساتھ شہ مشرقین کا
اک غل اٹھا کے مر گیا عاشق حسین کا
چلاتی تھی یہ زوجہء عباس نامور
چھوڑو مجھے خدا کے لیے پیٹنے دو سر
وارث میرا گزر گیا لوٹا اجل نے گھر
ہاے ہاے یتیم ہوگئے دونوں میرے پسر
پردیس میں علی کے پسر سے بچھڑ گیء
اب خاک اڑانے دو کہ میری مانگ اجڑ گیء
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.