Maqtale imam hussain
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Mir Hasan Mir
غریب زہرا کی غربت سنو اے اہلِ عزا
اکیلا رہ گیا مقتل میں جب میرا مولا
سپاہ شام نے چاروں طرف سے گھیر لیا
لب فرات تھا ہر ایک خون کا پیاسا
تھا غل چراغ امامت ابھی بجھانا ہے
زمیں پہ زین سے شبیر کو گرانا ہے
یہ سن کے سنگ کسی نے جبیں پر مارا
کسی نے پہلو میں برچھی کا پھل اتار دیا
کسی نے سامنے آ کر چلائی تیغِ جفا
غریب زہرا کا زیں پر سنبھلنا مشکل تھا
علی و زہرا کو رن میں رلایا جاتا تھا
حسین گرتے نہیں تھے گرایا جاتا تھا
لگا جو تیر تو اصغر کو شہ نے یاد کیا
پکارا غازی کو جس وقت سر پہ گرز لگا
لگی جو برچھی تو اکبر کو دی تڑپ کے صدا
طمانچہ خولی نے مارا تو بولے یا زہرا
علی کو یاد کیا سر پہ ضرب چلتے ہوئے
حسن کو یاد کیا منہ سے خوں اگلتے ہوئے
زمیں سے زین پہ حضرت جو منہ کے بل آئے
جو تیر سینے میں تھے پشت سے نکل آئے
نکل کے پہلو سے سب برچھیوں کے پھل آئے
قرار کس طرح اب شہ کو ایک پل آئے
رکابیں پیروں سے ابنِ علی کی چھوٹ گئیں
تمام پسلیاں سبط نبی کی ٹوٹ گئیں
رقم کیا ہے یہ راوی نے درد کا منظر
کہ چلنے والا تھا جس دم حسین پہ خنجر
بہن سے آگے کھڑی تھی حسین کی دختر
کہا یہ شمر سے اس دم غریب نے رو کر
میری سکینہ کہیں دم نہ توڑ دے ظالم
تو رحم کر میرے بالوں کو چھوڑ دے ظالم
پڑا تھا دشت میں بے جاں بتول کا بیٹا
حسین زندہ ہیں کیا شمر سے کسی نے کہا
قریب جا کے یہ دی شمر نے پھر ہنس کے صدا
وہ دیکھو آ گئی مقتل میں ثانیء زہرا
یہ سنتے ہی شہ دلگیر اٹھ کے بیٹھ گئے
بہن کا نام پہ شبیر اٹھ کے بیٹھ گئے
یہ کہہ کے آگے بڑھا ہاتھ میں لئے خنجر
ادھر تڑپنے لگی ایک لاش دریا پر
ادھر قیام سے نکلی بتول کی دختر
عجیب بے ادبی شمر نے یہ کی آ کر
ذرا سی بھی نہ مروت دکھائی ظالم نے
کلام پاک کو ٹھوکر لگائی ظالم نے
عجب طرح سے ستمگر یہ کر رہا تھا ستم
کبھی حسین کی ذولفوں میں ہاتھ تھے با ہم
پکڑ کے ریش مبارک کبھی ہنسا اظلم
ہٹایا بالوں کو خنجر سے شمر نے اک دم
کہا حسین نے دیکھو ذرا علی اکبر
لعیں نے رکھ دیا زانو ہمارے سینے پر
چلی جو ضرب فرشتوں نے منہ کو پھیر لیا
فرشتے کیا تھے کہ نبیوں نے منہ کو پھیر لیا
ہٹے نبی تو رسولوں نے منہ کو پھیر لیا
چلے رسول تو ولیوں نے منہ کو پھیر لیا
حسن، رسول ،علی بولے اب خدا جانے
حسین جانے گلا جانے فاطمہ جانے
اب اسکے آگے تکلم بیان کیا ہوگا
لگی جو ضربیں نہ نکلا لہو کا اک قطرہ
لعین غیض میں آ کر صدا یہ دینے لگا
حسین جلدی بتا معجزہ یہ ہے کیسا
کہا غریب نے تو پیار ماں کا کیا جانے
گلے پہ میرے گلا رکھ دیا ہے زہرا نے
کہا حسین نے اماں ہٹا لیں اپنا گلا
مزید آپ ہوں زخمی یہ ہو نہیں سکتا
گلے پہ شاہ کے خنجر لعین کا جو چلا
صدائیں آتی تھیں سبحان ربی الاعلی
پسر کا خون بہا سیدہ کی گودی میں
سر حسین کٹا فاطمہ کی گودی میں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.