Maqtale hussain
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Irfan Hussain
شبیر کے زخموں پر مہدی
آنکھوں سے خوں بہاتے ہیں
تیرے سوکھے گلے کو کاٹا گیا
یہ کہکے تڑپتے جاتے ہیں
سینے پہ جو تیرے نیزہ لگا
وہ پشت کی جانب سے نکلا
اور ایک شقی کا تیر ستم
تیرے ماتھے پھر آکے لگا
ان زخموں پر پھر آکے لعیں
ہنس کر پتھر برساتے ہیں
شبیر کے زخموں پر۔۔۔
چھیدا ہے بڑی بے دردی سے
اصغر کی طرح تیرا بھی گلا
اک تیر تیرے پھر دل پہ لگا
جس سے تجھے اکبر یاد آیا
تیرے دل کی رگیں اب نیزوں سے
بے درد مسلمان کاٹتے ہیں
شبیر کے زخموں پر۔۔۔
تیری دایں طرف کی پسلی پر
جب نیزہ لگا تو بایںں گرا
جب باییں طرف کی پسلی پر
اک نیزہ لگا تو داییں گرا
زہرا کی طرح اے مولا تیری
اب ظالم پسلیاں توڑتے ہیں
شبیر کے زخموں پر۔۔۔
بن کاہل کا اک زہر بھرا
پھر تیر تیرے ماتھے پہ لگا
اک ظالم نے آگے بڑھ کر
اک گرز تیرے سر پر مارا
ملعون تجھے پھر نیزوں سے
بالوں سے زمیں پر لاتے ہیں
شبیر کے زخموں پر۔۔۔
کوئی لوٹتا ہے پھر تیری عبا
کوئی لوٹتا ہے عمامہ تیرا
کوئی تیرا کمر بند کھینچتا ہے
کوئی کھینچتا ہے کرتہ تیرا
اور گرم زمیں کی خاک تیرے
زخموں میں ستمگر ڈالتے ہیں
شبیر کے زخموں پر۔۔۔
تیرے زخمی گلے کو شمر لعیں
پھر کاٹتا ہے لکڑی جیسا
زینب سے لعیں وہ کہتا ہے
عباس کو اب بلواوء زرا
دیکھیں وہ کہ کیسے ہم شہ کے
مرنے پر خوشیاں مناتے ہیں
شبیر کے زخموں پر۔۔۔
تیروں پہ پڑا تھا صحرا میں
بے گور و کفن شہ کا لاشہ
ناصر نہ کوئی تھا مولا تیرا
جب لاشہ تیرا پامال ہوا
یوں فاطمہ زہرا اور علی
تیری غربت پر غش کھاتے ہیں
شبیر کے زخموں پر۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.